Chaltar Aurat Aur Beeba Mard
چلتر عورت اور بیبا مرد
ایشائی کلچر میں اگر مرد عورت پہ تشدد کرے تو ایک اچھی عورت پہ لازم ہے کہ وہ اسے نہ صرف چھپائے بلکہ دنیا کے سامنے ہنس ہنس کر یہ بھی ظاہر کرے کہ وہ دونوں کس قدر آئیڈیل کپل ہیں چاہے غازے کی تہہ میں اس تھپڑ کا نشان ہی کیوں نہ ہو جو کچھ ہی دیر پہلے صاحب نے منہ پہ رسید کیا ہو۔
اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اس امید کا اطلاق پڑھی لکھی عورت پہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ تو سمجھ دار ہے نا، ذہین، پڑھی لکھی نے معصوم دکھتے صاحب کو کیوں اتنا فرسٹریٹ کیا کہ وہ تھپڑ لگانے پہ مجبور ہو گئے۔۔ یہ تو جاہل عورتوں والا کام ہوا نا۔
تشدد کی پاور ڈائنامکس میں مدعا عورت پہ ڈالنے کی روایت اس قدر مضبوط ہے کہ اس کے سامنے انتہائی مضبوط عورت بھی ہتھیار ڈال دیتی ہے چاہے ماں باپ کتنا ہی کہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔ چھوڑ دو اسے۔
مگر معاشرے کی نادیدہ زنجیریں توڑنا آسان کام نہیں۔ تبھی تو سارہ انعام مرنے سے پہلے کچھ بتا ہی نہیں سکی کہ شوہر نشے اور غصے میں کیا حشر بپا کرتا ہے اور پنڈی میں پروفیسر کی بیوی حنا جس نے گلے میں پھندا ڈلوا لیا مگر اردگرد والوں کو خبر نہیں ہونے دی کہ شوہر صاحب اپنی جھنجھلاہٹ کا نشانہ کیسے بنا رہے تھے؟
یاد رکھیں مرد اور عورت کے بیچ تشدد کا کھیل پہلی بار میں ہی گلا دبانے اور موت تک نہیں پہنچ جاتا، یہ ڈرامہ ہلکی پھلکی مارپیٹ سے شروع ہو کر انجام کی طرف بڑھتا ہے،........
