Teen Meem Ki Kahani
میری زندگی کی سب سے پر مسرت گھڑی جب میری گڑیا، میری گیتی اس دنیا میں آئی تھی۔ یہ پہلی چیخ اولاد کا واحد وہ "رونا" ہے جس پر ہر ماں ہنستی ہے۔ گیتی میری تتلی، میری گوریا، جو آنگن میں چہکتی اور پھدکتی پھرتی۔ اس نے میری زندگی کو نئی جہت دی اور مجھے جنت کی ہمسری عطا کی۔ گیتی کب پاؤں پاؤں چلی اور کب اسکول کا بستہ اٹھایا پتہ ہی نہیں چلا۔ وقت بہت تیزی سے گزرا تھا۔
پر نہیں! کبھی کبھی وقت بھاری پتھر بھی، جو گزارنے نہیں گزرتا۔ پل، پل نہیں رہتے بلکہ صدیاں بن جاتی ہیں۔ وقت کے کوہِ گراں کو کاٹتے کاٹتے بازو شل اور دم لبوں پرآ جاتا ہے۔ میری زندگی بھی ایسے ہی آشوب سے گزری پر اللہ تعالیٰ کا حسن انتظام ایسا کہ کوئی رت، کوئی موسم بھی مستقل نہیں رہتا، اگر درد کی لو چلتی ہے تو اس بےنیاز کے صدقے رحمت کی گھنگھور گھٹائیں بھی ضرور برستی ہیں۔ صرف ایک تغیر ہی تو ہے جسے ثبات ہے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔
گیتی سمجھدار بچی تھی، ماں کے محدود وسائل اور لامحدود مسائل سے آشنا۔ کبھی کوئی فرمائش یا مطالبہ نہیں کیا۔ اس کی بے زبانی اور صابر رویہ میرے دل کو زخماتا ضرور پر دوسرا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ سنگل پیرنٹ کی اپنی مجبوریاں، حدود اور کٹھنائیاں ہوتی ہیں۔ گیتی نے بہت جلد گھر کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا تھا اور بہت کم عمری ہی سے وہ میرے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ اس کا وجود نہ صرف کہ نعمت بلکہ میری شرح زندگی بھی۔
گڑیا کی شادی رچاتے رچاتے جانے کب گیتی اتنی بڑی ہوئی کہ اس کا اپنا رشتہ آ گیا۔ گیتی ان دونوں انٹر کے امتحانات سے فارغ ہوئی تھی، جب میری پڑوسن کی جیٹھانی اپنے بیٹے کے لیے سوالی بن کر آئیں۔ میں حیران رہ گئی اور مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میری گوریا اتنی بڑی ہوگئی ہے۔ اب بابل کا آنگنا اس کے لیے تنگ اور وہ نئے جہانوں کی اڑان کے لیے تیار ہے۔ میں گریجویشن سے پہلے بچیوں کی شادی کے حق میں نہیں سو انہیں سہولت سے انکار کر دیا۔ میری پڑوسن نے بہت زور لگایا، مجھے زمانے کی روش اور سنگل پیرنٹ ہونے کے مضمرات سے نئے سرے سے آگاہی بھی دی۔ مگر میں بچیوں کی شادیاں تعلیم مکمل کیے بغیر کرنے کے حق میں نہیں۔ لڑکیوں کا باشعور ہونا اور برے وقتوں سے نمٹنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں تعلیم اور ہنر کا ٹول ہونا بہت ضروری۔ گیتی ویسے بھی ذہین تھی اس نے انٹرمیڈیٹ بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا اور انجینیرنگ........
