Bachon Ko Jinsi Taleem Kyun Aur Kese Di Jaye?
بچوں کو جنسی تعلیم کیوں اور کیسے دی جائے؟
مریم تیسری جماعت میں پڑھتی تھی۔ رمضان المبارک کا پہلا روزہ تھا۔ گلی میں اپنی پھپھو کے گھر میں کھیلنے گئی تو اس سے قریب پانچ برس بڑے کزن نے بیرونی دروازے سے ملحق ڈرائنگ روم میں اسے دبوچ لیا اور کپڑے اتارنے کی کوشش کی۔ اسے کبھی "گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ" نہیں سکھایا گیا تھا، مگر اس لڑکے کا یوں پکڑنا اسے سخت کریہہ لگا۔ اس نے قمیص مضبوطی سے تھام لی اور مزاحمت کی۔ لڑکے نے اسے دھمکایا، "شور مچایا تو تمہیں بھی گڈی کی پھپھو کی طرح مار دیا جائے گا"۔
بچی کو گڈی کی پھپھو کی پوری کہانی معلوم نہیں تھی۔ اسے بس اتنا پتا تھا کہ انہیں ایک مرد کے ساتھ دیکھے جانے کے بعد ان کے بھائیوں نے قتل کر دیا تھا، جبکہ وہ مرد زندہ رہا، گھر بسایا اور اس کے بچے اسی گلی میں کھیلتے تھے۔ سو ایک لمحے کو اسے لگا کہ لڑکیوں کے ساتھ شاید واقعی ایسا ہی ہوتا ہے۔ پھر اس نے سوچا، جو ہوگا دیکھا جائے گا، مگر اس لڑکے کو اپنے کپڑے نہیں اتارنے دے گی اور پوری قوت سے چیخ پڑی۔ لڑکا گھبرا گیا اور اسے چھوڑ دیا۔ وہ گھر پہنچی تو اسے فخر تھا کہ وہ اپنے سے بڑے لڑکے کا مقابلہ کرکے خود کو بچا آئی ہے، مگر گھر کی عورتوں نے کہا، "یہ بات کسی کو مت بتانا، یہ شرمندگی کی بات ہے"۔ تب پہلی بار اس کے ننھے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ اگر غلطی اس نے نہیں کی تو شرمندگی اسے کیوں ہو۔
برسوں بعد اسے سمجھ آیا کہ اس دن اگر کوئی چیز باعثِ شرم تھی تو وہ اس کی بے بسی نہیں، اس لڑکے کی بد نیتی، اس کی کریہہ جسارت اور ایک کم سن بچی کے ساتھ ایسا کرنے کی کوشش تھی۔ اس بچی کے لیے تو یہ باعثِ فخر تھا کہ اتنی سی عمر میں، خوف اور دھمکی کے باوجود، وہ خود کو بچا لائی۔ پھر دوسروں کے واقعات سن کر اسے یہ بھی سمجھ آیا کہ اگر خدانخواستہ وہ اس روز خود کو بچا نہ پاتی، خوف سے ساکت رہ جاتی، چیخ نہ پاتی، یا وہ لڑکا اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتا، تب بھی قصور اس کا نہ ہوتا۔ دکھ یہ ہے کہ بہت سے بچے یہ فرق برسوں تک نہیں سمجھ پاتے۔ جرم یا زیادتی کی کوشش کسی اور کی ہوتی ہے، مگر شرم، گندگی اور قصور کا احساس بچے اپنے اندر لیے پھرتے ہیں۔
روبیرٹا نے اپنے بچپن کے تقریباً سات برس ایک ایسے شخص کے ہاتھوں جنسی زیادتی سہتے ہوئے گزارے جسے وہ اپنا حقیقی باپ سمجھتی تھی۔ قریب دس برس کی عمر میں، ماں کی علیحدگی کے بعد، اس نے پہلی بار اپنی دادی کو بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ بہت بعد میں برطانیہ کی Independent Inquiry into Child Sexual Abuse کے سامنے اس نے کہا:
"یہ میری طرف سے کوئی گندا راز نہیں ہے۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا"۔
دیّا نو برس کی تھی جب اس کے سوتیلے باپ کی غیر معمولی شفقت بوسوں، تنہائی اور کپڑے اتارنے تک جا پہنچی۔ اسے ابتدا میں یہی گمان رہا کہ "شاید باپ بیٹیوں کے ساتھ ایسے ہی ہوتے ہیں"۔
برسوں بعد اس نے کہا: "مجھے یہ سمجھنے میں برس لگ گئے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا تھا"۔
دیّا اور روبیرٹا کی کہانیاں اس مسئلے کے دو نہایت اہم رخ سامنے لاتی ہیں۔ دیّا کو یہ معلوم نہ تھا کہ محبت کے نام پر اس کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ زیادتی ہے۔ روبیرٹا کو بہت دیر سے یہ سمجھ آیا کہ زیادتی سہنا اسے گندا، قصوروار یا داغ دار نہیں........
