Kya Khuda Ki Zaroorat Baqi Nahi Rahi?
سرسری طور پر دیکھا جائے تو انسان نے سائنسی ایجادات میں بہت ترقی کی ہے اور نئے نئے علوم بھی وجود میں لا چکا ہے۔ اس سے انسان بحثیت مجموعی یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی کیا ہے، سب کچھ انسان نے کیا ہے لہذا خدا کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ آج انسان جس طرح ترقی کی منازل طے کرکے اپنے آپ کو اور اس زمین کے علاؤہ باقی کائنات تسخیر کررہا ہے اس سے انسان ایک تکبر کی جگہ پر کھڑا ہوگیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو آسمانی خدا، مذہب اور فلسفیانہ مباحث میں وقت ضائع کئے بغیر بس یہ سفر طے کرتے جانا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترقی، خوشحالی، صحت، تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی اور دوسری چیزوں پر اپنا زور لگانا ہے۔ دیکھا جائے تو بات بلکل درست ہے۔ ایک غریب شخص کو مذہب اور فلسفیانہ بحثوں سے کیا غرض بلکہ اسے اپنے اور بچوں کے پیٹ کی بھوک مٹانا اولین ترجیح ہے۔
لیکن اس سارے پس منظر کے باوجود کیا انسان کو اس کائنات کے بنیادی........
