menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Subon Ka Dhol

25 0
07.09.2026

آپ دنیا کے کسی بھی خطے کے حکمرانوں کی تاریخ پڑھ لیں، آپ کو ہر خطے کے حکمرانوں میں ایک چیز کامن دکھائی دے گی کہ یہ جب تک اقتدار کے جھولے میں جھولتے رہے تب تک انہیں اچھے بُرے، سچ اور جھوٹ کی کوئی تمیز نہ رہی لیکن جیسے ہی ا ن کے اقتدار کا سورج غروب ہونا شروع ہوا تو ساری سچائیاں ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی ہوگئیں اور وہ چیخ چیخ کر ان سچائیوں کا اعتراف اور اعلان کرنے لگے۔

فرعون غرق ہونے لگا تو اسے کلمہ یاد آ گیا، قارون کو زمیں نگلنے لگی تو اسے معافی یاد آ گئی، نمرود کو مچھر نے سچ یاد کرا دیا، سکندر کی موت اسے سب کچھ سکھا گئی، کرامویل کی پھانسی نے اسے حقیقت سمجھا دی، رضا شاہ کی جلا وطنی نے اسے سبق پڑھا دیا، حسنی مبارک کو جیل کی کوٹھری نے تارے دکھلا دیئے اور قذافی کو لیبیا کی گلیوں نے سچ ازبر کرا دیا۔ حکمرانی کے دور ان اقتدار کے نشے کا جا دو سر چڑھ کر بولتا ہے لیکن جیسے ہی اس نشے کا خمار اترتا ہے تو حکمران ایک نئے نشے میں مبتلاء ہو جاتے ہیں وہ سچ بولنے کا نشہ ہوتا ہے۔

اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ لوگ سچ کے عارضے میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ ماضی کی تمام سچائیاں........

© Daily Urdu