menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Urdu Novelette Nigari Mein Khawateen Ka Hissa

18 0
21.07.2026

اردو ناولٹ نگاری میں خواتین کا حصہ

اردو ادب میں صنفی تنوع اور فنی ارتقا کی بات کی جائے تو ناولٹ ایک ایسی صنف ہے جو اپنے منفرد فنی خد و خال کے باعث ادبی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ لفظ "ناولٹ" اطالوی زبان کے لفظ Novella سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "خبر" یا "تازہ بات" ہے۔ فنی اعتبار سے یہ صنف ناول اور افسانے کے درمیان ایک ایسا سنگم ہے جو اپنی وسعت میں افسانے سے زیادہ اور ناول سے کم ہے۔ ناولٹ میں نہ تو ناول جیسا پھیلاؤ ہوتا ہے اور نہ ہی افسانے جیسی مختصر پسندی، بلکہ اس میں زندگی کے کسی ایک اہم رخ یا واقعے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ قاری مکمل ادبی تجربے سے گزرے۔ ناولٹ نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ کم سے کم صفحات میں زندگی کی بھرپور عکاسی کرے اور کہانی کا تاثر دل و دماغ پر گہرا نقش چھوڑ جائے۔

اردو ناولٹ کی تعمیر و تشکیل اور فنی ارتقا کی تاریخ میں خواتین ناولٹ نگاروں کا حصہ نہایت اہم اور گراں قدر رہا ہے۔ انھوں نے سماجی مسائل، داخلی نفسیات اور تہذیبی اقدار کو ناولٹ کے کینوس پر اس خوبصورتی سے پیش کیا کہ یہ صنف اردو نثر کا ایک توانا اور زندہ حوالہ بن گئی۔ یہاں اردو کی منتخب ناولٹ نگاروں کے حوالے سے مختصر مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔

1۔ قرۃ العین حیدر: اردو ناولٹ کی تاریخ میں قرۃ العین حیدر کا نام ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے اس صنف کو فنی استحکام بخشا اور اسے عالمی معیار کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی ناولٹ نگاری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا تاریخی شعور اور تہذیبی پس منظر ہے۔ وہ محض کہانیاں نہیں سناتیں بلکہ برصغیر کی ہزاروں سالہ تاریخ اور بدلتی ہوئی تہذیبی قدروں کو اپنے فن کا موضوع بناتی ہیں۔ وہ ماضی اور حال کو ایک لڑی میں پرونے کا فن بخوبی جانتی تھیں۔

ان کا ناولٹ "سیتا ہرن" ہجرت، نفسیاتی کرب اور عورت کی سماجی حیثیت کو تاریخی تناظر میں پیش کرتا ہے۔ "ہاؤسنگ سوسائٹی" بدلتے سماجی ڈھانچے، مادہ پرستی اور انسانی رشتوں میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ "دلربا" میں لکھنؤ کی زوال پذیر تہذیب اور طوائفوں کے........

© Daily Urdu