menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahore Aur Fan e Kitab Sazi: Tareekh, Riwayat Aur Tajdeed

19 9
20.01.2026

کتاب انسانی علم، تہذیب اور فکری روایت کی ایک اہم علامت ہے۔ ابتدا میں علم کی منتقلی زبانی روایت کے ذریعے ہوتی تھی، مگر وقت کے ساتھ تحریر، قلمی مخطوطات، کاتبوں کی محنت اور جلد بندی کے فن نے کتاب کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ اسے ایک باوقار علمی و ثقافتی فن کے طور پرمتعارف کروایا۔

کتاب سازی کی شروعات جنوبی ایشیا میں زمانہ قدیم سے ہوئی۔ پانچویں قبل مسیح صدی میں لوگ علم اور معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے قدرتی مواد استعمال کرتے تھے، جیسے تال پاترا (کھجور کے پتے) اور بھوج پتر (برچ کی چھال)۔ ان صفحات کو آج کی طرح کتاب کی صورت نہیں دی جاتی تھی، بلکہ انہیں ایک ترتیب میں رکھ کر دھاگوں سے باندھ دیا جاتا اور لکڑی کے تختوں کے درمیان محفوظ کیا جاتا۔ اس کا مقصد نہ صرف اہم تحریروں کی حفاظت کرنا تھا بلکہ انہیں آسانی سے کہیں بھی لے جانے اور نقل کرنے کے قابل بنانا بھی تھا۔ یوں ابتدائی کتاب سازی علم کے تحفظ اور اس کی رسائی کے لیے ایک ضروری فن بن گئی۔ برصغیر میں سماجی اور مذہبی رسومات ہمیشہ نفاست اور جمالیاتی ذوق کے ساتھ ادا کی گئیں اور انہیں فن کا حصہ سمجھا گیا۔ کتاب سازی اور جلد بندی روایتی فن کی نمایاں مثالیں ہیں۔

کتاب انسانی تہذیب کی ایک بنیادی علمی ایجاد ہے ہر دور میں کتاب کی ساخت، مواد اور تیاری کے طریقے اس عہد کی فکری، سماجی اور ثقافتی ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کاغذ کی ایجاد اور اس کے فروغ نے کتاب بندی کے فن کو ایک نیا رخ دیا۔ کاغذ سازی کی تکنیک چین سے وسطی ایشیا، ایران اور پھر جنوبی ایشیا پہنچی۔ اسلامی دور میں، خصوصاً دہلی سلطنت اور مغلیہ عہد میں کتاب بندی ایک نفیس فن کے طور پرمنظرعام پر آئی۔ مغلیہ دور میں کتاب بندی کا فن اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اس دور میں کتابوں کی جلدیں عموماً چمڑے سے تیار کی جاتی تھیں، جن پر نقش و نگار، سونے کا کام، دباؤ کی نقش کاری اور سرورق پر تہ دار تختیاں بنائی جاتی تھیں۔ کتاب بندی کا عمل خوش........

© Daily Urdu