menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Marhoom Ke Wursa Aur Rufqa Se Dili Taziyat

32 0
03.06.2026

مرحوم کے ورثاء اور رفقاء سے دلی تعزیت

بچپن میں پہلی بار "سقوط" کا لفظ الطاف حسن قریشی مرحوم کے کالموں میں پڑھا تھا یہ وہ وقت تھا جب سقوط ڈھاکہ کا ذکر ہوتا تو سامنے قریشی صاحب کا کالم ضرور ہوتا۔ مرحوم جب تک بقید حیات رہے اس سانحے کو مختلف انداز میں بیان کرکے اس کے کرداروں کو بے نقاب کرکے اپنے اسلوب و انداز میں نعرہء اناالحق بلند کرتے رہے کہ اسی میں ہی وقار ہے منصب و عہدے کچھ کام نہیں آتے۔ مزید یہ کہ سقوط ڈھاکہ کا ذکر ان کے قریبی رفیق کار جناب مجیب رحمن شامی کی وساطت سے بھی ملتا رہا ہے اور اس سانحہ کی یاد نئی نسل تک پہنچتی رہی ہے گویا اس معاملے میں شامی صاحب ان کے شانہ بہ شانہ نظر آتے ہیں اور وہ انہی معرکوں میں ہمراہی ہو کر اکٹھے گرفتار بھی ہوئے کیونکہ یہاں نظریے اور سوچ کا زاویہ ایک ہی سمت رواں تھا۔

مرحوم کے بھائی اعجاز حسن قریشی نے بھی سقوط ڈھاکہ کے اسباب کو بیان کرنے میں کبھی بخل اور تامل سے کام نہیں لیا اور نئی نسل کو اس واقعے کے پیچ و خم سے آگاہ کیے رکھا۔ الطاف حسن قریشی مرحوم پاکستان کو دوبارہ متحد کرنے یا رکھنے کے شدت سے خواہاں تھے اس لئے انہوں نے بار بار بنگلہ دیش کو مشرقی پاکستان سمجھتے ہوئے اپنا تعلق جاری رکھا اور اکثر وہاں آتے جاتے رہے۔ راقم الطاف حسن قریشی سے ملاقات کا شرف تادم و حال حاصل نہ کرسکا تھا مگر ان کی تحریروں کے ذریعے روحانی تسکین بدرجہ حاصل رہی ہے۔

تین چار ایام سے دل دماغ میں ایک فعال آرزو پالے ہوئے تھا کہ سانحہ........

© Daily Urdu