menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ilm Ra Brtun Zani Mare Bawad

7 0
latest

علم را بر تن زنی مارے بود

انسان اور علم کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی خود انسانی تہذیب۔ انسان نے جب پہلی مرتبہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کو حیرت سے دیکھا، جب اس نے آسمان کے ستاروں کو گنا، زمین کی تہوں میں چھپے رازوں کو دریافت کیا، پانی کے بہاؤ کو سمجھا اور الفاظ کے ذریعے اپنے تجربات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا، اسی لمحے علم کے سفر کا آغاز ہوا۔ یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کبھی انسان علم کی تلاش میں صحرا نوردی کرتا تھا، کتب خانوں کی خاک چھانتا تھا اور استاد کی ایک نظرِ التفات کو اپنی دولت سمجھتا تھا، جبکہ آج معلومات ہماری انگلیوں کی پوروں پر موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معلومات کی فراوانی نے ہمیں واقعی صاحبِ علم بھی بنا دیا ہے؟

یہیں سے علم کی اصل معنویت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ نے علم کی حقیقت کو دو مصرعوں میں جس گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ پورے فلسفۂ علم کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے:

علم را بر تن زنی مارے بود علم را بر دل زنی یارے بود

یعنی ایسا علم جو صرف ظاہر تک محدود رہے، انسان کے وجود پر بوجھ بن جاتا ہے، لیکن جو علم دل میں اتر جائے، وہ انسان کا ساتھی اور رہنما بن جاتا ہے۔ رومیؒ کے نزدیک علم محض کتاب میں موجود الفاظ کا نام نہیں، علم وہ روشنی ہے جو انسان کے اندر اتر کر اس کے رویے، فکر، کردار اور عمل کو تبدیل کر دے۔

عام طور پر ہم علم کو معلومات کے حصول سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی موضوع کے بارے میں زیادہ جاننا، بہت سی کتابیں پڑھنا، بڑی بڑی اصطلاحات سے واقف ہونا یا کسی مضمون میں ڈگری حاصل کر لینا بلاشبہ علم کے سفر کے اہم مراحل ہیں، لیکن یہ علم کی آخری منزل نہیں۔

معلومات ذہن کو بھر سکتی ہیں، مگر علم ذہن کو روشن کرتا ہے۔ معلومات انسان کو بتاتی ہیں کہ کیا ہے، علم اسے یہ سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے کہ کیوں ہے، کیسے ہے اور اس کا درست استعمال کیا ہونا چاہیے۔

ایک شخص ہزاروں کتابیں پڑھ سکتا ہے، سینکڑوں حوالوں کو یاد رکھ سکتا ہے، علمی مجالس میں بلند پایہ گفتگو کر سکتا ہے، لیکن اگر اس کے علم نے اس کے اندر برداشت، دیانت، انصاف، عاجزی اور انسان دوستی پیدا نہیں کی تو اس کے علم کی معنویت ادھوری ہے۔

اسی لیے حقیقی علم انسان کے اندر صرف جاننے کی صلاحیت نہیں پیدا کرتا بلکہ پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے: حق اور باطل کی پہچان، اچھے اور برے کی پہچان، ضروری اور غیر ضروری کی پہچان،........

© Daily Urdu