Adiala Ke Saaye Mein Azad Qayadat
اڈیالہ کے سائے میں آزاد قیادت
گراں ہے اتنی لبوں پر حروف کی زنجیر
زباں پہ قید ہو جیسے کلام کرنے کی
قید جسمانی ہو، ذہنی یا فکری۔ تکلیف دہ اور اذیت ناک ہی ہوتی ہے۔ اس سے اگر فیصلہ سازی کی قوت جاتی ہے تو معاملہ فہمی بھی دم توڑ جاتی ہے۔ جذبات غالب ہوتے ہیں تو مخالف کا درست انتخاب ہو پاتا ہے اور نہ مدمقابل کی طاقت کا اندازہ، ہمہ وقت لڑنے، مرنے، مارنے کو جرات کا استعارہ اور مذاکرات و سیاسی بصیرت کی پسپائی ہوتی ہے، یہی احتجاج کی ناکامی کی بڑی وجوہات۔
پاکستان اور تیسری دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک میں حق احتجاج کا غلط استعمال ایسے ہی عام جیسے اظہار آزادی رائے کے ساتھ حشر۔ حزب مخالف احتجاج میں جب انتہا پسندی اور تشدد کا رنگ بھرتے ہیں تو مظلوم سے ظالم بن جاتے ہیں۔ عوامی جذبات حکومتی ایوانوں تک پہنچانے کے لیے اپوزیشن آئینی، قانونی، پارلیمانی اور اخلاقی راستے اختیار کرنے کی بجائے جب متشدد طرز پر اتر آئے تو ظاہر ہے حکومتوں کے پاس بے پناہ وسائل، اختیارات اور طاقت ہوتی ہے جسے وہ بروئے کار لا کر اکثر ایسے احتجاجوں پر غلبہ پا لیتی ہیں الا کہ ملک کے طاقتور طبقات حکومت کو طاقت کے بے جا........
