Jab Riyasat Mein Taqat Aeen Se Bari Ho Jaye
جب ریاست میں طاقت آئین سے بڑی ہو جائے
ایک ملک تھا۔ وہاں لوگ ہر چند سال بعد ووٹ ڈالتے تھے قطاریں لگتی تھیں انگوٹھوں پر سیاہی لگتی تھی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر امیدیں کھڑی ہوتی تھیں اور گھروں میں بیٹھے لوگ نتائج کا انتظار کرتے تھے کسی کو یقین ہوتا تھا کہ اس کا امیدوار جیتے گا کسی کو امید ہوتی تھی کہ اس کی جماعت حکومت بنائے گی اور کسی کو یہ خوش فہمی ہوتی تھی کہ شاید اب کی بار واقعی عوام کی باری آئے گی مگر کہانی کا ایک دوسرا باب بھی تھا اس باب میں کچھ ایسے کردار تھے جو انتخابات میں ووٹ نہیں مانگتے تھے جلسے نہیں کرتے تھے منشور نہیں چھاپتے تھے مگر اقتدار کے دروازوں پر ان کا سایہ ضرور موجود رہتا تھا۔
وقت گزرتا گیا حکومتیں آئیں حکومتیں گئیں وزرائے اعظم بدلے جماعتیں بدلیں نعرے بدلے مگر سوال وہیں کھڑا رہا عوامی مسائل جوں کے توں رہے۔ پاکستان میں اصل طاقت کس کے پاس ہے یہ سوال آج بھی زندہ ہےاور شاید اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی طاقت کو آئین سے بالاتر ہونا چاہیے۔ اصل بیماری کسی ایک شخص کا نام نہیں ہماری سیاسی بحث کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بحران کو کسی ایک شخص کے نام سے جوڑ دیتے ہیں فلاں ذمہ دار ہے فلاں نے سب خراب کیا فلاں کو ہٹا دو ملک ٹھیک ہو جائے گا پھر وہ شخص ہٹ جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد وہی بیماری کسی نئے چہرے کے ساتھ واپس آ جاتی ہے اس کا مطلب صاف ہے مسئلہ صرف چہرے نہیں نظامِ اختیار کا ہے۔
جب ریاستی طاقت آئینی حدود سے باہر نکل کر سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے جب پارلیمان کی بالادستی کمزور ہو جب سیاسی جماعتیں اپنے مخالف کو برداشت نہ کریں جب حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سیاسی دشمن سمجھنے لگیں اور جب قانون کی عمل داری کا معیار طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف محسوس ہونے لگے تو پھر مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں رہتا۔
پھر مسئلہ پورے نظام کا بن جاتا ہے ہم نے انگریز کو نکالا مگر کیا ذہن آزاد ہوا نہیں گوروں کی غلامی سے نکل کالوں کے جنگل میں پھنس گئے اور ایسے پھنسے ہیں نکل کی کہیں سے امید نظر نہیں آتی۔
1947ء میں برطانوی راج ختم ہوا ایک نیا ملک بنا ایک نیا آئین آیا ایک نئی امید پیدا ہوئی لیکن آزادی صرف یہ نہیں کہ حکمران کی جلد کا رنگ بدل جائے آزادی یہ ہے کہ شہری ریاست کے سامنے اپنا حق مانگ سکے........
