Iran, America Aur Teesri Aalmi Jang, Kon Kis Ko Samjhane Mein Nakam Raha?
ایران، امریکہ اور تیسری عالمی جنگ، کون کس کو سمجھنے میں ناکام رہا؟
دنیا میں جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں بعض جنگیں غلط اندازوں انا کے پہاڑوں اور طاقت کے نشے میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ تاریخ کا ایک دلچسپ سبق یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنے حریف کی کمزوریوں کا حساب تو لگا لیتی ہیں مگر اس کے عزم برداشت اور مزاحمت کی صلاحیت کو ناپنے میں غلطی کر جاتی ہیں پھر ایک دن انہیں احساس ہوتا ہے کہ جس ملک کو وہ نقشے پر چند لکیروں سے محدود سمجھ رہی تھیں اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ، ایک قومی شناخت اور مزاحمت کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے سوال یہ ہے کہ طاقت کا استعمال اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے پاس جدید ترین جنگی طیارے، بحری بیڑے، جدید ٹیکنالوجی اور دنیا بھر میں پھیلا ہوا فوجی اثرورسوخ ہے۔ اسرائیل کے پاس جدید دفاعی نظام انٹیلی جنس نیٹ ورک اور طاقتور اتحادیوں کی حمایت موجود ہے۔ دوسری طرف ایران ہے جو کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی محاصرے جیسے حالات کا سامنا کرتا آیا ہے بظاہر یہ مقابلہ غیر مساوی ہے لیکن جنگوں کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ غیر مساوی مقابلوں کے نتائج ہمیشہ طاقت کے تناسب سے نہیں نکلتے۔
امریکی حکمتِ عملی کے بنیادی سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کی اعلیٰ قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اس کی سیاسی مزاحمت ختم کی جا سکتی ہے یہ سوال نیا نہیں۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں مختلف حالات اور مختلف نتائج کے باوجود ان تجربات نے یہ واضح کیا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے کسی حکومت کو کمزور کرنا ایک بات ہے مگر اس کے بعد مستحکم سیاسی نظام قائم کرنا بالکل دوسری بات۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی سوال اہم ہے یکم اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے ایک تجزیے میں یورپی امور کے مرکز OSW نے لکھا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے ایران کو اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج قبول کرنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے جبکہ ایرانی نظام نے قیادت کے نقصان کے باوجود اپنا انتظامی اور سیاسی تسلسل برقرار رکھا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تجزیے کے مطابق ایران نے اپنے مخالفین کو فیصلہ کن فوجی شکست دینے کے بجائے ان کے لیے جنگ کی قیمت بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کی یہاں امریکہ کے لیے اصل سوال پیدا ہوتا ہے اگر جدید ترین ہتھیار کسی ملک کے بنیادی سیاسی فیصلوں کو تبدیل نہ کر سکیں تو پھر فتح کا معیار کیا ہوگا؟
کیا فتح صرف تباہ ہونے والی تنصیبات کی تعداد ہے؟ کیا مخالف فوج کو پہنچنے والا نقصان فتح کہلائے گا؟ یا اصل کامیابی یہ ہے کہ جنگ کے اختتام پر مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل بھی ہوں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب جنگ کے میدان سے زیادہ سفارت........
