Riyasat Aur Wafaq Ke Mutaliq Taasur (2)
ریاست اور وفاق کے متعلق تاثر (2)
اپنی پچھلی تحریر میں میں نے کچھ عوامل کا ذکر کیا تھا جن کی وجہ سے میرے خیال میں پاکستان میں لوگوں کی اپنی ریاست اور سرکار کے حوالے سے ایک خاص قسم کی ذہنیت بن گئی ہے۔ یہ ذہنیت نوآبادیاتی دور میں تشکیل پائی تھی لیکن اپنے ملک کے قیام کو 80 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک ویسی ہی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے دو باتیں واضح کر دوں۔ پہلی۔ میں برائے گفتگو یہ مان لیتا ہوں کہ ریاست کو "ماں" کی طرح ہونا چاہیے اور اُسے تمام شہریوں کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک کرنا چاہیے اور کسی گروپ کے ساتھ پسندیدہ اولاد ہونے کا یا سوتیلی اولاد جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ سرکاری ملازمین کو اپنے فرائضِ منصبی دیانتداری اور انصاف کے ساتھ سرانجام دینے چاہییں اور عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے۔ نیز یہ کہ میں امورِ ریاست کو عوام کی مرضی سے چلائے جانے میں یقین رکھتا ہوں۔ اِس لیے میں عوام کی رائے کو اہمیت دیتا ہوں۔ دوسری چیز۔ میں نے اِس مضمون میں جن طبقات کا ذکر کیا ہے وہ میری ذاتی رائے ہے اور اِس حوالے سے میں نے کسی سماجی یا سائنسی نظریے یا درجہ بندی کو بنیاد نہیں بنایا ہے۔
اِن دو وضاحتوں کے بعد میں اپنے موضوع پر آتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ پاکستان کے قیام سے پہلے یہاں انگریزوں کا راج تھا اِس لیے ہماری ذہنیت بن گئی ہے کہ ریاست اور سرکار "غیر" چیزیں ہیں اور ہم پر جبر کے ذریعے مسلط ہیں۔ اِس وجہ سے "ریاست" یا "وفاق" ہمیں "غیر" اکائیاں لگتی ہیں۔ اِس لیے ہمارا اپنی ریاست کے ساتھ ریاست اور شہری والا تعلق قائم نہیں ہو پایا ہے۔
ریاست کے حوالے سے ہم جو الفاظ اور اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اُن سے ریاست اور سرکار کے متعلق ہمارا رویہ منفی ہوتا جاتا ہے اور جتنا جتنا ہمارا رویہ منفی ہوتا جاتا ہے ہم اُن کے متعلق اُتنے ہی جذبات برانگیختہ کرنے والے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ یوں ایک شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے اور بعض اوقات لوگ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن سے لگتا ہی نہیں ہے کہ وہ "اپنے" ملک کا ذکر کر رہے ہیں جس سے اُن کو شکایتیں ہیں، بلکہ بسااوقات تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی دشمن ریاست کا ذکر کیا جا رہا ہو۔ ریاست پر حملے کے لیے انڈیا کے ٹینکوں پر بیٹھ کے آنے، ریاست کے تین ٹکڑے کرنے اور ریاست پر تھوکنے تک کے بیانات اُن لوگوں کے منہوں سے نکلتے ہیں جن کے پاس پاکستان کی شہریت ہے۔
اِس رویے کی ایک مثال یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے کیے گئے ہر اُس عمل کو جو اُس نے اپنے تشخص یا مفاد میں کیا ہو، ہم "تھوپنا" یا "وفاق کا ڈاکہ ڈالنا"، "وفاق کا فلاں چیز کو غصب کر لینا" یا مشتعل ہجوم یا بلوائیوں کو قابو میں لانے کے اقدامات کو "ریاستی جبر" (atrocities) یا "وحشیانہ تشدد" قرار دیتے ہیں۔
اِسی رویے کے تحت ملک میں جو بھی برا ہوتا ہے وہ ریاست کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر قصور شہر میں ایک مظلوم بچی زینب کو ایک درندے نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ کیسی ریاست ہے جس میں چھوٹی بچیوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کیا جاتا ہے! یہ واقعہ اِتنا دلدوز تھا کہ اِس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ درندگی جھیل سیف الملوک نے کی تھی؟ یا یہ دریائے چناب نے کیا تھا؟ یا کے ٹو پہاڑ نے؟ یا یہ قبیح حرکت وزارتِ خارجہ نے کی تھی؟ نہیں۔ یہ کام ایک پاکستانی شہری نے کیا تھا۔ لیکن ہم ریاست سے غیریت اور ناراضگی کی بنا پر شہریوں کے برے کام بھی ریاست کے سر منڈھ دیتے ہیں۔ ریاست کے بارے میں ہمارے بالکل یہی رویے اُس وقت ہوتے ہیں جب ہم مثلًا گستاخانہ خاکے شائع ہوتا دیکھتے ہیں، یا کسی سیاسی قائد کو قتل ہوتا دیکھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
میں ریاست کی طرف رویے کے حوالے سے پاکستانیوں کو تین گروپوں میں بانٹتا ہوں: اشرافیہ، دانشور اور عام لوگ۔ میری اوپر ذکر کردہ یہ بات ذہن میں رکھیے کہ یہ میری ذاتی درجہ بندی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اِن تینوں کے ریاست اور سرکار سے متعلق رویوں پر بات کروں۔
سب سے پہلے ہم اشرافیہ کو دیکھ لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اشرافیہ ڈیفنس جیسے علاقوں میں باقی لوگوں سے الگ تھلگ رہتی ہے۔ یہ طبقہ ذہنی طور پر مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یہ لوگ امریکہ یا برطانیہ باقاعدگی سے آتے جاتے ہیں اور جب پاکستان میں ہوتے ہیں تب یہ اپنے جیسوں کے ساتھ ہی گھلتے ملتے اور "پارٹیاں " کرتے ہیں۔ اِن کے سارے کام وقت پر ہو جاتے ہیں۔ اِن کو پاکستان کے حالات اور پاکستانیوں کے مسائل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اِس لیے وہ اِن چیزوں پر بات کرکے اپنا وقت ضائع نہیں........
