Ittefaq Se Ikhtilaf Tak
صبح کے سات بج رہے تھے۔ چائے والے نے اخبار تہہ کیا، پہلی سرخی پر نظر ڈالی، ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور پھر اس نے ایک جملہ کہا: "صاحب! خبر تو روز نئی ہوتی ہے، مگر مسئلہ وہی رہتا ہے"۔ اس کے سامنے بیٹھے ایک بزرگ نے جواب دیا، "بیٹا! پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں، اپوزیشن بدلتی ہے، نعرے بدلتے ہیں، لیکن عوام کی امیدیں نہیں بدلتیں"۔
شاید یہی پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے اور سب سے بڑی امید بھی۔
جنوری 2026 کو جب نئے سال کا آغاز ہوا تو امید کی جا رہی تھی کہ یہ سال سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور قومی ہم آہنگی کا سال ہوگا۔ حکومت نے اقتصادی اشاریوں میں بہتری، سرمایہ کاری، محصولات میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کامیابی قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے آئینی بالادستی، انتخابی شفافیت اور سیاسی آزادیوں کے سوالات اٹھائے۔ دونوں کے اپنے اپنے دلائل تھے، مگر بازار میں کھڑا آدمی صرف ایک سوال پوچھ رہا تھا: "میرے گھر کا خرچ کب کم ہوگا؟"
یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔
گزشتہ سات ماہ میں پاکستان نے کئی سیاسی موڑ دیکھے۔ بجٹ آیا، اس پر شدید بحث ہوئی، پارلیمان میں گرما گرم تقاریر ہوئیں، معاشی اصلاحات کا ذکر ہوا، ٹیکس نظام پر اعتراضات سامنے آئے، صوبائی معاملات پر اختلافات بڑھے اور جولائی میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا۔ ان تمام واقعات نے ایک حقیقت کو نمایاں کیا کہ پاکستان کی سیاست ابھی تک مکمل اتفاقِ رائے کی منزل سے کافی دور ہے۔
سیاست میں اختلاف کوئی جرم نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر جمہوریت اختلاف سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختلاف، دشمنی میں تبدیل ہو جائے اور مکالمہ ختم ہو جائے۔ جب ہر فریق........
