General Asim Munir Bator Sifaratkar
جنرل عاصم منیر بطور سفارت کار
ایران امریکا امن معاہدے یا مفاہمتی معاہدے کا اعلان فریقین کی جانب سے ہو چکا ہے۔ انیس جون کو جینیوا میں دستخط ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز فوری کھل رہی ہے۔ امریکا واپس جا رہا ہے۔ ایران اسے اپنی فتح قرار دے رہا ہے۔ امریکا اسے اپنی فتح بتا رہا ہے۔ ایران کے میزائل پروگرام کا خاتمہ امریکی ایجنڈا نہیں تھا بات افزودہ یورینیم کی حوالگی اور ہرمز پر ٹیکس پر پھنسی ہوئی تھی۔ میزائل پروگرام دراصل امریکی مفاد میں ہے۔ خلیج ممالک اور اسرائیل اسی سبب امریکی اسلحہ خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ معاہدے پر تفصیلی جائزہ دستخط ہونے کے بعد کرنا مناسب رہے گا۔ یہاں میرا موضوع اور ہے۔
ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، بیانیوں سے بھی بنتی ہیں اور بیانیے ہمیشہ سادہ نہیں ہوتے۔ ان میں کشمکش بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک ہی کردار میں روشنی اور سایہ دونوں ساتھ چلتے ہیں۔ عاصم منیر کا ذکر آج کے پاکستان میں محض ایک فرد کا ذکر نہیں بلکہ ایک پورے نظام، ایک طرزِ حکمرانی اور ایک تاریخی تسلسل کا حوالہ بن رہا ہے۔ ان کے بارے میں رائے قائم کرنا آسان نہیں کیونکہ یہاں معاملہ پسند یا ناپسند کا نہیں بلکہ مشاہدے اور سامنے آنے والے حقائق کا ہے۔
دفاعی محاذ پر استحکام، اعصابی مضبوطی اور دباؤ میں آئے بغیر مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت، یہ وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی فوجی قیادت میں مطلوب ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں معاملہ دلچسپ........
