menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Corporate Ghulami Aur Awami Bebasi

31 0
25.06.2026

کارپوریٹ غلامی اور عوامی بے بسی

ریاستِ پاکستان کا دستور صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ہر شہری کی عزت آبرو اور اس کے وجود کا نگہبان ہے آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 واضح طور پر انسان کی حرمت اور "گھر کی پرائیویسی" (چادر اور چاردیواری کے تحفظ) کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 24 ہر شہری کو اس کی جائیداد کے مالکانہ حقوق کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ریاست کو پابند کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی رضا مندی یا قانون کے جائز تقاضوں کے بغیر اس کی ملکیت سے محروم نہ کیا جائے۔

جب کوئی طاقتور پرائیویٹ کمپنی منافع کی ہوس میں کسی غریب کے آشانے اس کی محنت سے کھڑی کی گئی بلڈنگ یا جائیداد پر اس کی مرضی کے خلاف غاصبانہ قبضہ جمانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ صرف زمین کے ایک ٹکڑے پر نہیں بلکہ پاکستان کے آئین پر شب خون ہوتا ہے۔ ظلم کی انتہا تب ہوتی ہے جب عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے حکومتی ایوان اور مقتدر ادارے ان سرمایہ داروں کے آلہ کار بن کر مظلوم کے بجائے ظالم کی پشت پناہی کرنے لگتے ہیں۔ اگر ریاست خود ہی اپنے شہریوں کو سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو پورا معاشرہ ایک ایسے بھیانک خلفشار لاقانونیت اور انارکی کی دلدل میں دھنس جائے گا جہاں جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے۔ جب انصاف کے دروازے بند اور قانون سرمایہ دار کی لونڈی بن جائے تو عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے بغاوت سنگین جرائم اور معاشرتی تباہی جنم لیتی ہے ہم اقتدار کے اندھے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی کی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے ان بھیڑیوں کی سرپرستی بند کریں کیونکہ جب مظلوم کی آہ اور آئین کی پامالی حد سے بڑھتی ہے تو پھر تاریخ کے........

© Daily Urdu