menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gulab Devi Hospital Tareekhi Khidmaat

26 0
23.04.2026

گلاب دیوی ہسپتال تاریخی خدمات

گزشتہ روز نشتر ٹاؤن پریس کلب کے عہدیداران نے گلاب دیوی چیسٹ ہسپتال کا دورہ کیا اور ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر حامد حسن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد ایک طرف تو ہسپتال کے اندر علاج کی سہولیات کے بارے میں جاننا تھا اور ساتھ ہی ہسپتال کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کرنا تھا تاکہ مخیر حضرات اس رفاعی ہسپتال میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر حامد حسن نے وفد کو خوش آمدید کہا اور صحافیوں کو بتایا کہ گلاب دیوی ہسپتال قیام پاکستان سے پہلے وجود میں آیا تھا اور اس وقت کے مشہور سیاست دان اور سماجی شخصیت لالہ لاجپت رائے نے اس ہسپتال کی بنیاد 1927 میں اپنی والدہ گلاب دیوی کی یاد میں رکھی تھی جو ٹی بی کے مرض سے وفات پاگئی تھی۔ یہ ہسپتال پچاس ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے جس میں چالیس ایکڑ اراضی لاجپت رائے نےاس وقت کی انگریز حکومت سے خریدی تھی جبکہ دس ایکڑ زمین حکومت نے بطور عطیہ گلاب دیوی ٹرسٹ کے نام کی تھی۔

آغاز میں یہ ہسپتال پچاس بستروں پر مشتمل تھا جہاں اس وقت ٹی بی کے مریضوں کو رکھا جاتا تھا اوران کے علاج تک مکمل ادویات اور کھانا تک فراہم کیا جاتا تھا۔ اس ہسپتال کو اعزاز حاصل ہے کہ جولائی 1934 میں مہاتما گاندھی نے اس کا افتتاح کیا تھا اور پھر جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بھارت سے لٹے پھٹے مسلمان جب والٹن مہاجر کیمپ میں آتے تھے تو ان کے علاج کے لئے گلاب دیوی ہسپتال نے بڑی خدمات سر انجام دی تھیں اور اسی کارنامہ ہائے پر شاباش دینے کے لئے قائد اعظم خود بھی چل کر نومبر 1947 میں اس ہسپتال تشریف لائے تھے اور آج بھی قائد اعظم کی یاداشت کا خط چیف ایگزیکٹو کے آفس میں محفوظ ہے۔

اس ہسپتال کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہندوستان کی آزادی کے دونوں بڑے رہنماؤں مہاتما گاندھی اور قائد اعظم کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ گلاب دیوی کو بڑا عرصہ........

© Daily Urdu