America, Iran Aur Pakistan
امریکہ، ایران اور پاکستان
اسلام آباد کے ماحول میں آج کل ایک عجیب سی بے چینی ہے جو مارگلہ کی پہاڑیوں سے نکل کر پورے شہر کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اسلام آباد میں سپر پاور امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا ایک دور ہو چکا ہے اور دوسرے دور کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی جہاز کچھ سازو سامان لے کر نور ائر بیس پر اتر چکے ہیں اور امید کی جارہی تھی کہ منگل کے دن اسلام آباد میں ایک بڑی بیٹھک سجے گی جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات طے ہو جائیں گے لیکن آخری لمحات میں یہ مذاکرات کھٹائی کا شکار ہو گئے۔
ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے رضامند ہوا ہی تھا کہ اب امریکہ نے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی کرکے معاملات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ یہ جنگ اب ہتھیاروں سے نکل کر چند لوگوں کی ضد پر پھنس چکی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ ہم آبنائے ہرمز کو اس وقت تک نہیں چھوڑ سکتے جب تک امریکہ ایران کے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کردیتا ہے۔ جو جنگ ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کرکے اسرائیل کے تحفظ کے لئے شروع ہوئی تھی وہ اب بحری راستوں پر کنٹرول کی جنگ بن چکی ہے۔
امریکہ ایک طرف تو مذاکرات کے لئے بے چین دکھائی دیتا ہے لیکن ساتھ ہی صدر ٹرمپ آئے روز کوئی نئی بات کرکے ماحول کو کشیدہ بنا دیتے ہیں اور ٹرمپ کی روز روز کے بدلتے ہوئے بیانات سے ایران پریشان دکھائی دیتا ہے اور ایران تو بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اسے امریکہ اور بالخصوص ٹرمپ پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے کیونکہ پہلے بھی دو بار امریکہ نے مذاکرات کی میز پر بات چیت کے دوران ہی ایران پر حملہ کیا تھا۔ اب بھی ایران کو خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
عراق کی مثال سب کے سامنے ہے جب امریکہ نے تسلی کرلی تھی کہ عراق کے پاس کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں تو پھر امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ عراق پر چڑھ دوڑا تھا اور عراقی تیل کے بڑے........
