menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kushaish Ko Hamara Uqda Pasand Aaya

49 0
29.08.2026

کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

ہم نے آخرکار ترقی کا وہ راز دریافت کر لیا ہے جس سے دنیا ابھی تک ناواقف ہے۔ انسان کو جتنا زیادہ مشکل میں رکھا جائے۔ وہ اتنا ہی بہتر انسان بنتا ہے۔ یعنی مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں۔ سہولت، آسانی، وقت کی بچت، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق۔ یہ سب بظاہر اچھی چیزیں ہیں لیکن ان میں ایک خطرناک خرابی ہے۔ یہ انسان کو خود اعتمادی دے سکتی ہیں اور خود اعتمادی، جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔ کسی ایسے نظام کیلئے زیادہ مفید چیز نہیں جو شہری کو سوال کرنے سے پہلے اطاعت کا عادی بنانا چاہتا ہو۔

چنانچہ ہمارے ہاں ایک خاموش تربیتی نظام جاری ہے۔ شہری کو سہولت کا عادی نہ ہونے دیا جائے۔ ایئرپورٹ اس تربیت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ مسافر ٹکٹ لے کر آتا ہے۔ وقت پر پہنچتا ہے۔ سامان اٹھائے قطار میں کھڑا ہوتا ہے اور یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے محض مسافر سمجھا جائے گا۔ کسی مسئلے کا حصہ نہیں مگر یہ توقع شاید کچھ زیادہ ہی غیرضروری ہے۔ کاؤنٹر اچانک بند ہو سکتا ہے۔ مشین سست پڑ سکتی ہے۔ نظام جواب دے سکتا ہے اور مسافر کو آخر تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خرابی کہاں ہوئی۔ سوائے اس کے کہ اب وہ خود خرابی بن چکا ہے پھر اگر ٹکٹ ضائع ہو جائے۔ سفر رہ جائے اور وہ مایوس ہو کر واپس آئے تو ایک مختصر سا جملہ اس کی پوری داستان کا اختتام کر دیتا ہے۔

کاؤنٹر کلوز ہو چکا ہے، اس جملے میں ہماری انتظامی حکمتِ عملی کا غیرمعمولی اختصار موجود ہے، نہ وضاحت، نہ ذمہ داری، نہ متبادل راستہ۔ صرف ایک بند کاؤنٹر اور اس کے سامنے کھڑا ایک شہری، کسے اندر جانے دینا ہے........

© Daily Urdu