Bilawal, Shazia Marri Aur Darbari Siasat
بلاول، شازیہ مری اور درباری سیاست
لاہور کی ایک شام کبھی کبھی پورے ملک کی سیاست کا چہرہ دکھا دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مجھے الحمرا کے پلاک لاہور میں ہونے والی سالانہ پنجابی کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ کانفرنس ہر سال ایک عجیب خوبصورتی کے ساتھ سجتی ہے۔ پاکستانی پنجاب سے سیاستدان، صحافی، ادیب، شاعر، اداکار اور دانشور آتے ہیں جبکہ انڈین پنجاب سے بھی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ اسٹیج پر اس دن اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سابق وفاقی وزیر ندیم افضل چن اور تجزیہ کار و کالم نگار سہیل وڑائچ بیٹھے تھے۔
گفتگو کے دوران ندیم افضل چن صاحب نے ایک جملہ کہا اور پورا ہال چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہوگیا۔ انہوں نے کہا: "میں وزیر بھی رہا ہوں، تحریک انصاف میں بھی رہا ہوں اور اب پیپلز پارٹی میں ہوں، لیکن آپ کو ایک حقیقت بتاتا ہوں، ہم کسی بھی جماعت میں ہوں، حقیقت میں درباری ہوتے ہیں۔ بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں لیڈر ناراض نہ ہو جائے۔ ساری سیاسی جماعتوں کا یہی حال ہے"۔
میرے ساتھ میرے ایک پروڈیوسر دوست بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے کہا، "یار! کم از کم چن صاحب نے سچ بولنے کی ہمت تو کی"۔
یہ جملہ میرے ذہن میں اس وقت دوبارہ زندہ ہوگیا جب میڈیا ٹاک کے دوران بلاول بھٹو زرداری سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں سوال کیا گیا۔ صحافی نے پوچھا کہ ایک وزیر کہہ رہے ہیں کہ یہ پروگرام صوبوں کے حوالے کر دینا چاہیے، آپ کیا کہتے ہیں؟ بلاول بھٹو نے جواب دیا، "میں اس وزیر صاحب کے بارے میں نہیں جانتا"۔
ساتھ بیٹھی شازیہ مری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "یہ کھیل داس صاحب کی بات ہو رہی ہے، انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا"۔
یہاں سے منظر بدل گیا۔
بلاول بھٹو نے فوراً سخت لہجے میں کہا، "میں نے آپ سے نہیں پوچھا"۔
شازیہ مری نے ہلکے دفاعی انداز میں کہا، "سر، میں تو صرف بتا رہی تھی"۔
اور پھر بلاول بھٹو نے وہ مختصر مگر سخت........
