Nisf Sadi Ka Qissa Hai Do Char Baras Ki Baat Nahi
نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں
آئیے میں آپ کو نئے زیربحث موضوع پر پینتیس برس پہلے کے زمانے میں لیے چلتا ہوں۔ کیونکہ مجھے شدید حیرت ہے کہ ہمارے بہت سے دانشور، صحافی، سیاستدان اور ادیب حضرات تصویر کو غور سے دیکھ ہی نہیں پارہے ہیں۔ جذباتی نعروں، لفظوں اور کہیں کہیں تو انتہائی متعصبانہ جملوں کے حملوں سے فضا کو آلودہ کررکھا ہے اور حقائق سے مسلسل آنکھیں چُرا رہے ہیں۔
نوے کی دہائی کا جب آغاز ہوا تو ایک خبر نے ملک کے سیاسی، صحافتی حلقوں میں پھیلنا شروع کردیا تھا کہ 1997 میں ہانگ کانگ برطانیہ سے چین کو واپس مل جائے گا اور دنیا اس کے بعد ایک اور نئے سمندری شہر کی تلاش میں ہے تاکہ دوسری فری پورٹ قائم کی جاسکے۔
اس بات سے بھی پہلے بلوچستان کی ریاست قلات کے ایک شخص پرنس محی الدین ایک انٹرویو میں بہت تفصیل سے یہ ذکر کر چکے تھے کہ کراچی کی بندرگاہ کی سب سے بڑی خاصیت ہے کہ یہ ایک قدرتی ڈیپ واٹر بندرگاہ ہے۔ قدیم زمانے میں جب دنیا کی بیشتر بندرگاہوں پر پانی کم گہرا ہونے کی وجہ سے بڑے بحری جہازوں کو کھلے سمندر میں ہی لنگرانداز ہونا پڑتا تھا اور سامان چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ساحل تک لایا جاتا تھا، اس وقت بھی کراچی کے قدرتی جغرافیے کی وجہ سے بڑے جہاز بالکل ساحل اور کیماڑی کے کنارے تک آکر لگ جاتے تھے۔ اسی قدرتی حسن اور گہرائی کو دیکھ کر اس زمانے میں یہ تاریخی جملہ کہا گیا تھا کہ کراچی کی بندرگاہ فطرت کا ایسا شاہکار ہے جہاں سمندر خود چل کر ساحل تک آتا ہے اور جہاز بالکل کنارے سے لگ جاتے ہیں۔
چنانچہ مقتدرہ حلقوں میں اس جانب سوچا جانے لگا کہ اگر کراچی کو یہ پہچان حاصل ہوجائے تو پاکستان معاشی طور پر بہت مضبوط ہوجائے گا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ کراچی ایم کیو ایم کے زیر اثر آچکا تھا اور اس جماعت کا متشدد سیاسی پس منظر اس قابل نہیں تھا کہ انہیں اس معاملے میں شامل کیا جائے۔ پھر جو کچھ ہوا وہ ہم سب جانتے ہیں۔ اب اسے اتفاق کہہ لیجیے یا حالات کی ستم ظریفی کہ اس عالمی سطح پر بچھائی جانے والی جغرافیائی بساط پر جو کردار کراچی کو ملنے والا تھا وہ سمندر کے دوسری طرف دبئی کو مل گیا۔
دنیا کی اس بساط پر جو ہوا وہ تو ہوا مگر پاکستان اور بلخصوص سندھ کی سطح پر ایک اور بساط بچھ گئی اور وہ تھی کراچی پر قبضے کی بساط، جس میں ایک طرف مقتدرہ تھی تو دوسری طرف سندھ کی........
