Yahan Kon Puchta Hai
بزم طارق کے میزبان طارق عزیز نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک سفر سے وطن لوٹ رہے تھے، انکے ہم سفر نے مغربی دینا کے قصیدے پڑھنا شروع کئے اور زور اس بات پر تھا کہ لوگ کیسے قانون کی پابندی کرتے ہیں، ان کے اجتماعی اقدامات کس قدر قابل رشک ہوتے ہیں۔
مرحوم نے بتایاکہ جونہی ائر پورٹ سے وہ مسافر باہر نکلا اس نے سگریٹ سلگائی اور کش لگاتا رہا بقیہ حصہ فرش پر پھینک دیا، طارق عزیز اس سے مخاطب ہوئے جہاز میں آپ قانون کی پاسداری پر لیکچر دیتے رہے یہ حرکت کس زمرے میں آتی ہے، وہ گویا ہوئے کہ "یہاں کون پوچھتا ہے"۔
راقم کو فیصل آباد میں پتنگ کی ڈورکا شکار ہونے والے نوجوان کی المناک موت سے یہ واقعہ یاد آیا ہے، کس طرح کسی ماں کا لخت جگر پتنگ باز کی اندھی ڈور گلے میں پھرنے سے بے دردی سے ہلاک ہوا تھا۔ اس بدعت کا آغاز روشن خیال طبقہ نے زندہ دلان لاہور سے کیا، وہ عہد تھا جب لاکھوں افراد بسنت کے نام پر تفریح منانے لاہور کارخ کرتے، آتش بازی، ہوائی فائرنگ، ڈھول کی تھاپ پررقص اس کے بنیادی لوازمات تھے، بعد ازاں اس تفریح نے خونی کھیل کا روپ دھار لیا، محتاط اندازے کے مطابق اب تلک سینکڑوں افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہو چکے ہیں، یہ پہلاواقعہ نہیں تھا، تاہم ہر بار سرکار کا رد عمل ایک جیساہی رہا ہے، دفعہ 144کا نفاذ اور پکڑ دھکڑ، پولیس ملازمین کی معطلی وغیرہ، امسال وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے ذوق کے لئے لاہور میں بسنت منانے کی ایک بار پھر اجازت دی، تمام تر احتیاط کے باوجود گلے میں ڈور پھرنے کے واقعات اس لئے رونماء ہوئے کہ قانون کا احترام نہ کیا گیا۔
کروڑوں کی آبادی میں نہ........
