menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ankahi

26 0
28.10.2026

میں آج کل ذہنی اضطراب میں اس قدر گِھرا ہوا ہوں کہ تحریروں کا سلسلہ تھم سا گیا ہے۔ میری صلاحیتیں، میرے شوق دن بدن دیمک کی نظر ہو رہے ہیں۔۔ جس کی وجہ سے میں شدید ندامت کا شکار بھی ہوں اور آپ سب سے معذرت خواہ بھی۔ کسی موضوع پر بات کرنا مجھے موزوں ہی نہیں لگتا۔ اس ملک میں جنگل کا قانون ہے، دن دہاڑے لوگ مر رہے ہیں، بے حسی ہے۔

اس تحریر کا مقصد اپنے دل کو ہلکا کرنا ہے۔ اگر آپ میرے دکھ میں شریک ہو سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔ میں ایک ایسے علاقے میں سرکاری فرائض سرانجام دے رہا ہوں جہاں نہ نیٹ ورک ہے، نہ ایمرجنسی کی صورت میں کوئی ہسپتال اور نہ ہی قربت والے لوگ۔ تنہا دفتر میں راتیں گزارنا کبھی کبھی ایک ایسا کرب بن جاتا ہے کہ دل میں خیال آتا ہے شاید وقت آنے پر میں........

© Daily Urdu