Ightial e Tareekh
تاریخِ امم کا دفترِ عبرت اس حقیقتِ ثابتہ پر شاہدِ عدل ہے کہ جب کبھی کوئی قوتِ استیلا کسی قوم کے وجودِ اجتماعی کو معرضِ فنا میں دھکیلنے کے ارادۂ مبرم سے ہم کنار ہوئی، اس نے تیغ و تفنگ کے غلغلوں سے پہلے شعور کے چراغ گل کیے اور حافظۂ اقوام پر ضربِ کاری لگائی۔ اس لیے کہ اجساد کا انہدام تاریخ کا آخری باب ہوتا ہے، مگر اذہان کی شکست اس کا پہلا مقدمہ۔ انسان جب اپنی گزشتہ منزلوں کے نقوش بھلا دیتا ہے تو اس کے مستقبل کی راہیں بھی تاریکی میں گم ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جسے عصرِ حاضر کی اصطلاح میں "اغتیالِ تاریخ" کہا جا سکتا ہے، یعنی وہ منظم اور مدبرانہ عمل جس کے ذریعے کسی ملت کو اس کی روایت، تہذیب، شعور اور تاریخی تسلسل سے محروم کرکے اس کے وجود کو بے رشتہ، بے عنوان اور بے سمت بنا دیا جائے، حتیٰ کہ غلامی اس کے لیے جبر نہیں بلکہ معمولِ حیات بن جائے۔
برصغیر کے سیاسی افق پر ابھرنے والی نئی فکری تشکیل اسی المیے کی ایک نمایاں تمثیل ہے۔ مدتوں سے تاریخ کی تعبیر و تفسیر میں جو تدریجی تصرف جاری تھا، اب وہ ریاستی حکمتِ عملی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مغلیہ عہد، جس نے صدیوں تک برصغیر کی تہذیبی، علمی، عمرانی اور تمدنی ساخت کو مہمیز بخشی، اسے نصابی حافظے سے اس طرح خارج کیا جا رہا ہے جیسے وہ اس سرزمین کے تاریخی تسلسل میں کبھی داخل ہی نہ تھا۔ سلطانِ میسور حضرت ٹیپو........
