menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bhutto Ka Geopolitical Virsa

32 0
07.07.2026

بھٹو کا جیوپولیٹیکل ورثہ

برصغیر کی سیاست میں بعض شخصیات محض انتخابی کامیابی یا اقتدار کی مدت کے باعث تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری سمت، خارجہ حکمتِ عملی اور قومی خودشناسی کو ایک نئے زاویے سے متعین کر جاتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اسی قبیل کی شخصیت تھے۔ ان کی سیاست کو صرف داخلی نعروں، عوامی اجتماعات یا انتخابی معرکوں کے آئینے میں دیکھنا تاریخی ناانصافی ہوگی، کیونکہ ان کا اصل امتیاز اس تصورِ خارجہ میں پوشیدہ تھا جس نے پاکستان کو سرد جنگ کے دو قطبی عالمی نظام میں محض ایک تابع ریاست کے بجائے نسبتاً خودمختار سفارتی کردار دینے کی کوشش کی۔

عالمی سیاست اس وقت ایک نئے انتقالی دور سے گزر رہی ہے۔ امریکی یک قطبیت بتدریج کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے، چین معاشی و تزویراتی مرکزیت حاصل کر رہا ہے، روس اپنی جغرافیائی قوت کو ازسرِنو منظم کر رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ نئی سفارتی صف بندیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے اور ابھرتی ہوئی طاقتیں روایتی اتحادوں کے بجائے مفاد پر مبنی شراکت داری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ ایک طاقت کے زیرِ اثر خارجہ پالیسی اختیار کرے یا متوازن سفارت کاری کے ذریعے مختلف عالمی مراکز کے ساتھ بیک وقت مؤثر تعلقات استوار کرے؟........

© Daily Urdu