menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Trump Chilli Milli Abraham Accord

42 0
26.05.2026

ٹرمپ چلی ملی ابراہام اکارڈ

گزشتہ ہفتے، 23 مئی کی دوپہر امریکی صدر نے فون اٹھایا اور آٹھ مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو ایک ساتھ لائن حاضر کیا۔ پھر بڑے اطمینان سے فرمایا کہ بھائیو، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ سب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیں۔ ٹیلیفون لائن پر ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ صدر ٹرمپ نے، جو ہر حال میں خوش رہنے والے مست ملنگ آدمی ہیں، تھوڑی دیر انتظار کے بعد ہنس کر پوچھا کہ بھئی آپ لوگ ابھی موجود ہیں نا، یا فون ڈس کنکٹ ہوگیا ہے؟

یہ منظر، جو ایکسیوس نامی امریکی ویب سائٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بیان کیا ہے، دو ہزار چھبیس کا سب سے دلچسپ سفارتی منظر ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ خاموشی کے بعد سب سے پہلے کس نے گلا کھنکارا۔ سعودی فرماں روانے، شاید۔ یا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے، جو ٹرمپ صاحب کی اپنی فہرست کے مطابق پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یا قطری امیر نے، جن کے پاس وہ بوئنگ سات سو سینتالیس طیارہ ہے جو ٹرمپ صاحب کو حال ہی میں بہت پسند آیا تھا اور جو اب پینٹاگون قبول بھی کر چکا ہے۔ ہمیں صرف اتنا بتایا گیا کہ سعودی، قطری اور پاکستانی سب سے زیادہ حیران اور پریشان ہوئے۔ یہ خود اپنی جگہ ایک حیرت کی بات ہے، کیونکہ یہ تینوں ممالک یقیناً جانتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ کال پر کوئی بھی 'کانٹھ' ہوسکتا ہے۔

اور یہاں ایک چھوٹا سا، مگر بہت دلچسپ نکتہ ہے۔ پیر کے روز جب ٹرمپ صاحب نے اپنی پوسٹ میں آٹھ سربراہوں کے نام گنوائے، تو پاکستان کے کالم میں شہباز شریف کا نام نہیں آیا۔ آیا تو فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام آیا اور وزیراعظم صاحب نے، جنہوں نے اسی شام اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ٹرمپ صاحب کو "بہت مفید اور بامقصد ٹیلیفونی گفتگو" پر مبارک باد دی، گویا کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ نام نہ سہی، شکریہ ہم نے ضرور ادا کرنا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور غیر سویلین حصے کے درمیان کا یہ خاموش سمجھوتہ، آٹھ ممالک کی سفارتی تاریخ کا سب سے مختصر کلاسیک ڈرامہ ہے۔ امریکی صدر نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں فون اٹھانے والا شخص کون ہے اور پاکستان کے وزیراعظم نے، ادب سے، اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

پیر کی صبح ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا کہ صرف ٹیلی فونی گزارش سے کام نہیں چلے گا۔ اپنی سوشل میڈیا ایپلیکیشن "ٹروتھ سوشل" پر اس نے اعلان کیا کہ اب یہ تمام ممالک کے لیے "لازمی" ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ یہ ابراہام اکارڈ، یاد رہے، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ان کے داماد جیرڈ کشنر نے تیار کیا تھا تاکہ اسرائیل کو عرب دنیا میں قابلِ قبول بنایا جا سکے۔ اب اس معاہدے کے دوسرے ایڈیشن کا "فوری دستخط" سعودی عرب اور قطر سے شروع ہونا چاہیے، صدر صاحب نے........

© Daily Urdu