Insani Tawajo Ki Daketi Aur 17 Arab Dollar Ka Jurmana
انسانی توجہ کی ڈکیتی اور سترہ ارب ڈالر کا جرمانہ
یہ دنیا کی بڑی خبروں میں سے ایک ہے مگر شاید ایلگورتھم آپ تک نہیں پہنچنے دے گا۔ اوکلینڈ، کیلی فورنیا کی وفاقی عدالت تھی۔ اٹھارہ اگست کی صبح مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ ایک طرف امریکی ریاستیں، دوسری طرف دنیا کی امیر ترین کمپنیوں میں سے ایک، میٹا۔ والدین کی طرف سے الزام یہ تھا کہ اس کمپنی نے جان بوجھ کر ہمارے بچوں کو سوشل میڈیا کے نشے پر لگایا۔
پھر عدالت میں کمپنی کی ایک اندرونی رپورٹ پڑھی گئی۔ میٹا کے اپنے ملازم انسٹاگرام کو "نشہ" کہتے تھے اور خود کو "نشہ بیچنے والے"۔
کیلی فورنیا کی سرکاری وکیل میگن اونیل نے جیوری کے سامنے اس کاروبار کا نسخہ چار قدموں میں کھول کر رکھ دیا۔ "صارف کو پھانسو۔ جتنی دیر ہو سکے جکڑے رکھو۔ اس کا ڈیٹا نچوڑو اور سچ چھپا لو"۔
میٹا کے سابق انجینئر آرتورو بیخار نے گواہی دی کہ کمپنی کے اندر بس ایک ہی دھن چلتی تھی، صارف بڑھاؤ۔ اندرونی مطالعے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ نوجوان صارفین کو نقصان دہ تجربات کا سامنا اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کمپنی باہر مانتی تھی۔ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری سے جرح ہوئی کہ "وقفہ لیجیے" والے فیچر کا ڈھول تو خوب پیٹا گیا مگر بچوں نے اسے شاید ہی کبھی چھوا۔
ریاستیں، میٹا سے دو سو ارب ڈالر تک کا ہرجانہ مانگ رہی........
