Kya Aulad Ko Apna Aqeeda Sihana Chahiye?
کیا اولاد کو اپنا عقیدہ سکھانا چاہیے؟
ایک بہت پیارے دوست ہیں۔ عمدہ لکھاری، مصنف، فکشن نگار، عمدہ افسانوں کی کتاب بھی شائع ہوئی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کھرے آدمی ہیں۔ انہوں نے اپنی فیس بک تحریر میں ایک واقعہ لکھا جسے پڑھ کر میں دیر تک سوچتا رہا۔ ہوا یوں کہ جب ان کا بیٹا دس گیارہ برس کا تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا، بیٹا، کیا خدا ایک ہے؟ بچے نے وہی جواب دیا جو ہمارے ہاں ہر بچہ دیتا ہے، ہاں جی خدا ایک ہے، آپ نے بتایا ہے، دادی نے بتایا ہے۔ والد کو یہ جواب پسند نہ آیا۔ انہوں نے سمجھایا کہ تم خود اپنا سچ کھوجو، ہم تمہیں غلط بھی تو بتا سکتے ہیں۔
تحریر لمبی ہے، مختصر یہ کہ بچہ انہی سوالوں میں الجھ گیا۔ ایک روز باپ بیٹا واک کر رہے تھے کہ بیٹے نے کہا، میرے خیال میں خدا نہیں ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، پھر آخرکار والد نے خود ہی اسے کہا کہ چلو، پچھلے اسباق بھول جاؤ اور مان لو، تب تک مان لو جب تک انکار کی منزل نہیں آ جاتی۔
اصل بات مگر یہ ہے کہ ہمارے یہ دوست اس تحریر میں فتح کا اعلان نہیں کر رہے تھے، اپنی غلطی کا اعتراف کر رہے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ کچھ لوگ شاید اس پر داد دیں کہ میں نے بچے کو سوچنے کی تربیت دی، مگر مجھے افسوس ہے، میں نے غلط کیا۔ بچوں سے ان کا بچپن چھین لینا والدین کے بڑے جرائم میں سے ایک ہے۔ ان کے الفاظ میں، "میں نے اسے انکار کا سبق تو پڑھایا مگر اقرار کے لیے اسے تن تنہا چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بکھر کے رہ گیا"۔ تحریر کے آخر میں انہوں نے احباب سے پوچھا کہ بتائیے، میں نے غلط کیا یا درست؟
اس اعتراف کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے۔ اولاد کے معاملے میں کوئی باپ آسانی سے یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے چوک ہوئی۔ حیرت مجھے تحریر پر نہیں، اس کے نیچے آنے والے کمنٹس پر ہوئی۔ خاصے لوگ تلقین فرما رہے تھے کہ اپنا عقیدہ اولاد کو منتقل کرنا ہی نہیں چاہیے۔ بچوں پر اپنی سوچ نہیں ٹھونسنی چاہیے۔ نو دس سال کی عمر سے بچے کو تنقیدی اور تحقیقی سوچ سے آشنا کر دیں۔ جس بچے کے ذہن میں مذہب ڈال دیا جائے وہ کبھی نیوٹرل نہیں ہو پاتا۔ وغیرہ وغیرہ۔
خاکسار نے وہاں مختصر سا تبصرہ کیا، کچھ ان الفاظ میں، "آپ نے........
