menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taleem Ki Akhri Cheekh

25 0
02.05.2026

ریاستیں جب اپنی ترجیحات کھو دیتی ہیں تو سب سے پہلے تعلیم ان کے درمیان سے اٹھا لی جاتی ہے اور آخری چیخ سکول کے در و دیوار سے اٹھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنے بچوں کی تعلیم کو بوجھ سمجھا، اس نے اپنے مستقبل کو خود اپنے ہاتھوں سے گروی رکھ دیا۔ ہمارے ہاں بھی ایک خاموش مگر تیز رفتار تبدیلی جاری ہے۔ سرکاری اسکول ایک ایک کرکے نجی ہاتھوں میں منتقل ہو رہے ہیں جیسے کوئی اپنی ذمہ داریوں سے بتدریج دستبردار ہو رہا ہو۔ یہ کیا سمجھتے ہیں کہ محکمہ تعلیم سے جان چھڑوا کر حکومتی مشکلات کم ہو جائیں گی؟ کس خام خیالی میں ہیں یہ لوگ؟ آفرین ہے کہ ان کو کون دانا یہ مشورے دیتا ہے؟ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ سرکاری سکولز کو پرائیویٹ کرکے یہ دراصل قومیت کو ٹھیکہ پر دے رہے ہیں۔

پنجاب کے پرائمری سکولوں کی نجکاری کے بعد اب مڈل اور ہائی سکولز کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نجی شعبہ بہتر چلا سکتا ہے یا نہیں۔۔ سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟ تعلیم محض ایک سروس نہیں، ریاست کی روح ہے۔ اگر یہی روح ٹھیکے پر دے دی جائے تو پھر ریاست اور ایک کاروباری ادارے میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟

حکومت........

© Daily Urdu