Mazah Ki Wuqat
قبلہ عطاء الحق قاسمی صاحب نے عشروں سے اپنے ہر قاری کے سینے میں اپنے پرانے شہر وزیرآباد کو بڑے "چاقو چابند" طریقے سے آباد کیا ہوا ہے۔ مہینے میں ایک بار وہ اپنے اس شہر وزیرآباد کا ذکر نہ کریں یا ہر بدلتے موسم کے ساتھ وزیرآباد کو یاد نہ کریں ایسا تو کم از کم پچھلے چار پانچ عشروں سے کم از کم ان کے قارئین نے تو نہیں محسوس کیا۔ اس شہر سے Love لگاؤ اور برتاؤ کا ان کا اپنا ہی انداز ہے جو صرف قاسمی صاحب کے دل میں شادباد ہے۔ آپ کا ایک شعر ؎
وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے
ایک دوسرے سرد مقام کے بارے میں فرماتے ہیں ؎
صحرا کو نکل جائیں تو دل بھی ذرا بہلے شہروں میں تو ہنگامہء تنہائی بہت ہے
نوائے وقت میں "روزن دیوار سے" کے مطالعہ کے دوران کئی ایک شگفتہ جملے ذہن میں ثبت ہو چکے تھے۔ قاسمی صاحب نے لاہور کے ایک علاقے کے بارے لکھا کہ "پکی ٹھٹھی کی سڑکیں کچی ہیں اگر کمزور مثانے والا گھوڑا ادھر سے گزر جائے تووہاں مہینوں پانی کھڑا رہتا ہے" مگر وزیر آباد کی کچی سڑکوں کا ذکر اب بھی بڑے پکے ٹھٹھے انداز میں کرتے ہیں۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ "انسان ساٹھ سال کا ہونے کے باوجود بھی نابالغ رہتا ہے کیونکہ انسان بالغ ہونے کے بعد سنی یا وہابی یا لیفٹ رائٹ ہو جاتا ہے" پھر ایک زمانہ آیا جب ہم قاسمی صاحب کے لکھے ہوئے معروف ڈرامے "خواجہ اینڈ سن" اور شب دیگ وغیرہ دیکھا کرتے تھے۔ ڈرامے کے اختتام پر........
