menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aap Ki Zindagi, Aap Ki Zimmedari

26 0
21.10.2026

آپ کی زندگی، آپ کی ذمہ داری

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کی قیمت اس وقت سمجھتے ہیں جب زندگی خطرے میں پڑ چکی ہوتی ہے۔ صحت موجود ہو تو اس کی قدر نہیں ہوتی، جسم ساتھ دے رہا ہو تو ہم اسے نظرانداز کرتے رہتے ہیں، گھر میں ہمارے منتظر لوگوں کی اہمیت کا اندازہ بھی اکثر تب ہوتا ہے جب کسی حادثے، بیماری یا اچانک جدائی کا سامنا ہو جائے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اپنے موبائل، گاڑی، مکان اور مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاط کرتے ہیں، مگر جس جسم اور جان کے ذریعے یہ سب کچھ ہمارے لیے معنی رکھتا ہے، اس کی حفاظت کو ثانوی سمجھ لیتے ہیں۔

شاید ہمیں یہ احساس ہی نہیں کہ انسان کی زندگی صرف اس کی اپنی ملکیت نہیں ہوتی اس سے کئی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں۔ ایک انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کی کمی سب سے زیادہ وہی لوگ محسوس کرتے ہیں جن کی روزمرہ زندگی اس کے وجود سے جڑی ہوتی ہے۔ جنازے میں شریک ہجوم بظاہر بہت بڑا ہوتا ہے، مگر چند گھنٹوں بعد وہ ہجوم منتشر ہو جاتا ہے اور اصل دکھ گھر کی چار دیواری میں رہ جاتا ہے۔ وہاں ایک بیوی اپنے ساتھی کے بغیر، بچے اپنے باپ کے بغیر، والدین اپنے بیٹے کے بغیر اور بہن بھائی اپنے عزیز کے بغیر زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس فیصلے کو ہم چند لمحوں کا جوش سمجھ کر کر گزرتے ہیں، اس کے اثرات شاید ہمارے بعد برسوں تک دوسرے لوگ بھگتتے رہیں۔

ہماری اجتماعی زندگی میں ایک خطرناک رویہ یہ بھی پیدا ہو چکا ہے کہ ہم اپنی جذباتی کیفیت کو دوسروں کے مفادات کے لیے استعمال ہونے دیتے ہیں۔ سیاسی میدان ہو یا مذہبی، عوام کے جذبات کو متحرک کرنا ہمیشہ مشکل نہیں ہوتا۔ چند پُرجوش جملے، ایک طاقتور تقریر، کسی مقدس جذبے کی اپیل یا انقلاب کے خواب دکھانے والا بیانیہ انسان کو یہ یقین دلانے لگتا ہے کہ وہ کسی بہت بڑے تاریخی مقصد کا حصہ بن چکا ہے۔ اس مقام پر سوچنے کی........

© Daily Urdu