menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sadqa e Jaria Ki Aik Aur Surat (2)

32 0
18.09.2026

صدقۂ جاریہ کی ایک اور صورت (2)

چند روز پہلے وسیم اکرم صاحب اور انکے نیک ارادہ کے متعلق ایک خبر پڑھی تو دل خوش ہوگیا۔ خبر یہ تھی کہ وہ کراچی میں ایک مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے اپنی زمین بھی وقف کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ بعد میں اس خبر کے حوالے سے کچھ متضاد اطلاعات بھی سامنے آئیں، اس لیے میں اسے یہاں ایک خبر یا رپورٹ کے طور پر ہی لے رہا ہوں، کسی حتمی فیصلے کے طور پر نہیں۔

لیکن خبر پڑھتے ہوئے جو پہلا احساس میرے دل میں آیا، وہ بہرحال خوشی کا تھا۔ ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے استطاعت دی اور اس نے اپنی اس استطاعت میں سے کچھ دین کی خدمت اور ایک نیک مقصد کے لیے وقف کرنے کا ارادہ کیا۔ سچ کہوں تو وسیم اکرم کے اس جذبے سے متاثر بھی ہوا اور کچھ جذباتی بھی۔ اس میں قربانی کا جذبہ ہے، دین سے محبت ہے اور شاید والدین سے محبت کا وہ جذبہ بھی جس کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا۔ کسی کی نیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیت اور قربانی کو قبول فرمائے۔

پھر کچھ دیر بعد ایک دوسرا خیال آیا۔ یہ خیال وسیم اکرم کی نیت کے بارے میں نہیں تھا۔ نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسجد یا مدرسہ بنانا کوئی معمولی یا کم تر نیکی ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس کی تعمیر یقیناً سعادت ہے۔ لیکن اگر کسی صاحبِ استطاعت شخص کے سامنے بہت بڑی رقم کسی نیک کام پر خرچ کرنے کا موقع ہو تو کیا اسے یہ بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ اس رقم سے زیادہ سے زیادہ لوگوں اور آنے والی نسلوں کو فائدہ کیسے پہنچ سکتا ہے؟

کراچی میں پہلے ہی ہزاروں مساجد موجود ہیں۔ ایسے میں میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر اسی نوعیت کی بڑی رقم کسی جدید تعلیمی ادارے، کسی بڑے اسکول، کسی یونیورسٹی یا کسی تحقیقی ادارے کے قیام پر خرچ کی جائے تو اس کے اثرات شاید بہت دور تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ کسی شخص کی نیت پر اعتراض نہیں۔ یہ صرف ایک سوال ہے اور شاید یہ سوال صرف وسیم اکرم سے نہیں، ہم سب سے ہے۔

ہم پاکستانی بہت خیرات کرتے ہیں۔ 2018 میں پاکستان سینٹر فار فلانتھروپی کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی سالانہ تقریباً 240 ارب روپے خیرات کرتے تھے اور ملک کی تقریباً 98 فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں خیرات، عطیہ یا رضاکارانہ خدمت میں حصہ لیتی تھی۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک بہت خوب صورت حقیقت ہے۔ لیکن اس تصویر کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کچھ زیادہ غور کرنا چاہیے۔ ہم خیرات بہت کرتے ہیں، مگر زیادہ تر براہِ راست افراد کو دیتے ہیں۔ سڑک پر کوئی ہاتھ پھیلاتا ہے، ہم کچھ دے دیتے ہیں۔ کسی نے بیماری کا بتایا، مدد کردی۔ کسی کے گھر شادی ہے، حصہ ڈال دیا۔ مسجد کے باہر چندہ ہو رہا ہے، جیب سے رقم نکال دی۔ رمضان میں تو یہ........

© Daily Urdu