menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Insaf Ki Talash: Pakistan Siasi Bedari

35 0
14.06.2026

انصاف کی تلاش: پاکستان سیاسی بیداری

"عدل کسی معاشرے کی زینت نہیں، اس کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب بنیاد کمزور ہو جائے تو عمارت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، ایک دن گر جاتی ہے"۔

پاکستان کی تاریخ کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم کی تاریخ ہے جو مسلسل انصاف کی تلاش میں ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک عوام کے خواب، ان کی امیدیں، ان کے احتجاج، ان کی قربانیاں اور ان کی سیاسی جدوجہد ایک ہی لفظ کے گرد گھومتی رہی ہیں: انصاف۔

لیکن انصاف آخر ہے کیا؟ کیا انصاف صرف عدالتوں کا نام ہے؟ کیا انصاف صرف آئین میں درج چند اصولوں کا نام ہے؟ کیا انصاف صرف انتخابات کے انعقاد سے حاصل ہو جاتا ہے؟ یا پھر انصاف ایک ایسی اجتماعی کیفیت ہے جس میں ریاست، قانون اور طاقت سب کمزور ترین شہری کے تحفظ کے لیے استعمال ہوں؟

یہ سوال صرف پاکستان کا نہیں، پوری انسانی تاریخ کا سوال ہے۔ اسی سوال نے فلسفیوں، مفکروں، انبیاء، مصلحین اور انقلابیوں کو صدیوں سے متحرک رکھا ہے۔

جان راولز سے امرتیہ سین تک

جدید سیاسی فلسفے میں جان راولز John Rawls نے انصاف کو منصفانہ اداروں کی تشکیل سے جوڑا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر انسان اپنے ذاتی مفادات سے بے خبر ہو کر معاشرے کے قوانین بنائیں تو وہ لازماً ایسے اصول وضع کریں گے جو سب کے لیے منصفانہ ہوں۔

یہ تصور اپنی جگہ اہم ہے، لیکن پاکستان جیسے معاشروں کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے ادارے کیسے بنائے گئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو ادارے موجود ہیں، وہ اکثر عام آدمی کو انصاف دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

یہیں امرتیہ سین Amartya Sen کی فکر زیادہ عملی محسوس ہوتی ہے۔

سین کہتے ہیں کہ ہمیں "مثالی انصاف" کی تلاش میں وقت ضائع کرنے کے بجائے "واضح ناانصافیوں" کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔

ایک غریب کسان جو اپنے حق سے محروم ہے۔ ایک مزدور جو اپنی اجرت کے........

© Daily Urdu