Ishq Rajat Hai Ke Iqdam Hai? Maloom Nahi
عشق رَجعت ہے کہ اقدام ہے؟ معلوم نہیں
مالیگاؤں، ہند سے تعلق رکھنے والے جناب ذکی انور ہمدانی نے میلبورن، آسٹریلیا سے ایک نامۂ طویل ارسال فرمایا ہے۔ ہم تو دل تھام کر بیٹھ گئے کہ "کس طوالت، کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں"۔ بہرحال، تلخیص اس نامۂ طویل، کی پیشِ خدمت ہے۔ فرماتے ہیں: "عرض یہ ہے کہ لفظِ رجوع کے دو استعمالات عرصے سے میرے ذہن میں ایک لطیف اشکال پیدا کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کی توضیح کے لیے فلاں کتاب یا فلاں اُستاد سے رجوع کیجیے۔ مفہوم گویا کسی سرچشمۂ علم، کسی مرجعِ استناد یا کسی ماخذِ معرفت کی طرف رُخ کرنے اور استفادہ کرنے کا ہے۔
دوسری جانب یہی لفظ اس مفہوم میں بھی مستعمل ہے کہ کسی شخص نے اپنی سابقہ رائے، موقف یا دعوے سے رجوع کرلیا۔ یہاں کسی شے کی طرف رُخ کرنا نہیں، بلکہ اس سے دست بردار ہونا یا اس کے دائرۂ التزام سے باہر نکل آنا ہے۔ یہی پہلو موجبِ حیرت ہے کہ ایک ہی لفظ ایک مقام پر قرب، توجہ اور اقبال کا مفہوم ادا کرتا ہے، دوسری جگہ بُعد اور انقطاع کا تاثر اُبھرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟"
صاحب! آپ ہم سے مستفتی ہیں کہ "لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟" جب کہ یہاں بجز ندامت کے پاس کیا ہے۔ ایسے متضاد معنی رکھنے پر ہم اس لفظ کی طرف سے ندامت کا اظہارکرتے ہیں اور اسی لفظ کی جانب سے آپ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ نیز یہ کہ اس لفظ کی وجہ سے آپ کو جو حیرت کرنی پڑی اس کے لیے معذرت۔
بعد معذرت کے، عرضِ خدمت ہے کہ لفظ رجوع، کی اصل معنوی اساس، جاننے کو ہم نے لغت سے رجوع کیا تو لغت نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ ہمیں ڈانٹا کہ درست ترکیب رجوع کرنا، نہیں، رجوع........
