menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dikhawe Ke Aghaz Par Ikhlas Ka Ikhtitam Hota Hai

25 0
01.06.2026

دِکھاوے کے آغاز پر اِخلاص کا اختتام ہوتا ہے

اِنسانی اعمال کی اصل روح اِخلاص ہے۔ عبادت ہو، صدقہ ہو، خدمتِ خلق ہو یا کوئی اور نیک عمل، سب کی قبولیت کا دارومدار نیت کی پاکیزگی پر ہوتا ہے۔ جب عمل میں دکھاوے، شہرت اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش شامل ہو جائے تو اس عمل کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔ آج کل ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نیکی سے زیادہ نیکی کی تشہیر اہم سمجھی جانے لگی ہے۔ عبادت سے زیادہ اس کی نمائش پر توجہ دی جاتی ہے اور خدمتِ خلق سے زیادہ اس کے چرچے کی خواہش دلوں میں گھر کر گئی ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے ہر عمل کی بنیاد نیت کو قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی (بخاری و مسلم)۔ یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل کی قبولیت اس کے ظاہری حجم پر نہیں بلکہ اس کے پس پردہ نیت پر منحصر ہے۔ اگر نیت اللہ کی رضا ہو تو معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا ہے اور اگر مقصد لوگوں کی تعریف حاصل کرنا ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وقعت ہو جاتا ہے۔

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ انسان کی زندگی کا شاید ہی کوئی پہلو ایسا ہو جو موبائل فون کے کیمرے سے محفوظ نہ کیا جا رہا ہو۔ کھانے سے لے کر عبادت تک، سفر سے لے کر خیرات تک، ہر چیز کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس رجحان نے عبادات اور نیکیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسلام نے اخلاص کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ خالص اللہ کی عبادت کریں"۔ (البینہ: 5)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کا اصل مقصد صرف اللہ کی رضا کا حصول ہے نہ کہ لوگوں کی تعریف یا تحسین۔ بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں دکھاوے کا رجحان زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں........

© Daily Urdu