menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

11 September: Tareekh Ka Mor, Quaid Ki Rehlat Aur Badalti Dunya

25 0
11.09.2026

11 ستمبر: تاریخ کا موڑ، قائد کی رحلت اور بدلتی ہوئی دنیا

تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محض سالوں اور مہینوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان واقعات کا تسلسل ہے جو انسان کے انفرادی اور اجتماعی وجود کو نئی سمت دیتے ہیں۔ کچھ تاریخیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ عالمی سیاست، سماج اور انسانی ذہن پر اپنے انمٹ نقوش چھپو دیتی ہیں۔ گیارہ ستمبر کا دن بھی ایک ایسا ہی دن ہے، جو تاریخ کی ڈائری میں گہرے ملال، سنجیدہ فکر اور بے شمار موڑ کاٹنے والے واقعات کا حامل ہے۔ جب بھی یہ دن آتا ہے، تو ہمارے ذہن میں ایک طرف اپنے عظیم قائد کی خاموش رخصت کا منظر ابھرتا ہے، تو دوسری طرف اکیسویں صدی کے اس تاریخی واقعے کا خیال آتا ہے جس نے پوری دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔

پاکستان کے لیے 11 ستمبر 1948ء کا دن ایک ایسا زخم ہے جو کبھی پوری طرح نہیں بھر سکتا۔ یہ وہ دن تھا جب بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ اپنی حیاتِ مستعار کی آخری سانسیں لے کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ قائد کی رحلت کوئی عام واقعہ نہ تھا، یہ ایک نوخیز ریاست کا اپنے سب سے بڑے سہارے سے محروم ہو جانا تھا۔ زیارت کی پرسکون وادی کی ٹھنڈی ہواؤں سے لے کر کراچی کے گرم اور حبس زدہ ماحول تک، قائد اعظم کی زندگی کے آخری ایام ان کے بے مثال عزم، استقامت اور اپنے مقصد سے جنونی محبت کی داستان ہیں۔

وہ ایک ایسے طبیبِ قوم تھے جنہوں نے اپنی گرتی ہوئی صحت اور شدید جسمانی نقاہت کی کبھی پروا نہیں کی۔ پھیپھڑوں کے موذی مرض کے باوجود وہ جانتے تھے کہ........

© Daily Urdu (Blogs)