Hamari Adabi Taqreebat
ایک وہ دور تھا جب ادبی تقریبات اور مشاعرے مشترکہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ یہ ثقافت دہلی، لکھنؤ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے دور دراز علاقوں (جیسے حیدرآباد اور کلکتہ) میں بھی اس وقت سے پروان چڑھ رہی تھی جب سلاطین ہند اور امرائے دکن و بنگال شعرا و ادبا کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ اس وقت پیرس اور وینس جیسے شہروں سے بھی اہلِ علم ہندوستانی ادب اور کلچر سے شناسائی حاصل کرنے کے لیے ادھر آتے تھے۔ ہمارے تھیٹروں میں رامائن، شکنتلا، اندر سبھا اور انارکلی جیسے عظیم شاہکار پیش کیے جاتے۔ ہمارے میلوں میں امیر خسرو، وارث شاہ، میرا بائی اور خواجہ غلام فرید کے دوہے اور کافیوں کی گونج جذبات کو گرماتی تھی۔
شاعری اور ادبی تحریروں کی بنیاد حسن و عشق کے بیان اور اس کے پردے میں جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت پر رہی ہے۔
کالی داس کی شکنتلا عورت کی بے بسی اور جدوجہد کی علامت ہے۔ وارث شاہ کی ہیر ہو یا شرت چندر کی پارو، یہ سب عورت پر روا رکھے جانے والے جبر کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہیں۔
شاعری کا دوسرا بڑا موضوع سیاسی چیرہ دستیاں اور عوام پر حکمرانوں کا ظلم ہے۔ غالب نے دہلی کی بربادی اور شہنشاہِ ہند کی بے بسی پر کہا تھا
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے
تختِ دہلی اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں پر جب فرنگیوں کا تسلط ہوا تو ہماری علمی و ادبی تہذیب بھی زوال پذیر ہونے لگی۔ انگریز کے خلاف جدوجہد میں اس تہذیب نے اپنی بقا کی جنگ لڑی جس کی واضح جھلک ہمیں آزادی ہند کے جلسوں اور اسلامیانِ ہند کے بڑے بڑے مشاعروں میں نظر آتی ہے۔ حفیظ جالندھری کی شاہنامۂ اسلام ہو یا علامہ اقبال کا شکوہ و جوابِ شکوہ: ان کو سننے کے لیے خلقِ خدا جوق در جوق امڈ آتی تھی۔ اس دور کے شعرا کی عظمت اور ان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرسید احمد خان جیسے مفسر قرآن بھی اپنی نجات کا ذریعہ مسدسِ حالی کو قرار دیتے تھے۔
انگریز کے خلاف تحریکِ آزادی میں حسرت موہانی، ظفر علی خان، پنڈت ہری چند اختر اور آغا شورش کاشمیری کی نظمیں زبانِ زدِ عام ہوگئیں۔ ادیبوں کی اس........
