Surkh Aur Syah Tashayo
رنگوں کی بھی اپنی تقدیریں ہوتی ہیں۔ کچھ رنگ دیواروں پر سجتے ہیں، کچھ جھنڈوں پر لہراتے ہیں اور کچھ تاریخ کے اوراق پر خون کی روشن سطروں کی طرح ثبت ہو جاتے ہیں۔ سرخ بھی ایسا ہی ایک رنگ ہے۔ یہ محض رنگ نہیں، مزاحمت کی زبان ہے۔ انکار کا استعارہ ہے۔ اس انسان کی شناخت ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹوانا پسند کرتا ہے۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ بھی ہے کہ سرخ رنگ زیادہ دیر سرخ نہیں رہتا۔
یہی ہمارے خون کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ گرم سرخ خون جب رگوں میں دوڑتا ہے تو زندگی اور حرکت کی علامت ہوتا ہے لیکن جب زمین پر گرتا ہے تو آہستہ آہستہ سیاہی مائل ہو جاتا ہے، جم جاتا ہے اور پھر ایک بے جان لوتھڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انقلابی تحریکوں اور نظریات کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ انقلاب جنم لیتے ہیں، دنیا کو ہلا دیتے ہیں، ایوانوں کے دروازے لرزا دیتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حرارت کم ہونے لگتی ہے۔ ان کے پیروکار نظریے کی روح کے بجائے اس کے خول سے محبت کرنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن وہ انقلاب رسمی جلوس بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی نے اسی المیے کو "سرخ تشیع" اور "سیاہ تشیع" کے استعارے میں بیان کیا تھا۔ ان کے نزدیک سرخ تشیع کربلا کا وہ پیغام تھا جو ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا نام ہے جبکہ سیاہ تشیع وہ کیفیت ہے جس میں مزاحمت کی روح کو سوگ، عزاداری کی رسومات اور ظاہری عقیدت کی تہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
کربلا کی........
