menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kachi Chat Aur Wazir e Aala

21 0
07.07.2026

کچی چھت اور وزیر اعلٰی

ایک کمرے کا کچا مکان جس کی چھت لوہے کے گارڈر اور ٹی آئرن سے بنی ہوئی تھی جس کے اوپر مٹی کا لیپ کیا گیا تھا۔ برسات کی بارشوں نے اس چھت میں بھی چھید کر دئیے تھے جن کی مرمت کے لئے اس چھت پر مزدور کام کر رہے تھے۔ اسی چھت کے نیچے قوم کے بچے تعلیم حاصل کررہے تھے۔ پھر چھت گر گئی اور چودہ بچے موت کے منہ میں چلے گئے، پڑھانے والی ٹیچر اور اس کی بیٹی زخمی ہوگئے۔

یہ حالات کسی ایک ٹیچر یا کسی ایک پاکستانی کے نہیں ہیں بلکہ ساٹھ فیصد سے زیادہ پاکستانی ایسے ہی حالات سے گزر رہے ہیں۔ ٹیچر کا خاوند ٹھیلا لگا کر گھر کو چلانے کی کوشش کرتا تھا ليکن حکمرانوں نے ایک طرف ٹھیلے لگانے والوں کو عتاب کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ پھر بھی چھپ چھپا کر جو پیسے رات کو جمع ہوتے ہیں وہ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بلوں کا مقابلہ نہیں کر پاتے ہیں۔ روٹی کھانا، کپڑے پہننا اور بچوں کو پڑھانا ان پیسوں میں ممکن نہیں رہا ہے۔ بہت سارے گھر ایسے ہی چھوٹے چھوٹے ٹیوشن سنٹروں پر چل رہے ہیں۔ ان ٹیوشن سنٹروں میں ایک بہت بڑی تعداد پندرہ ہزار روپے تنخواہ لینے والے اساتذہ کی ہے اور یا پھر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے والی بچیاں چلاتی ہیں۔ جو تعلیم تو حاصل کرنا چایتی ہیں لیکن ان کے ٹھیلے والے باپ یا پندرہ بیس ہزار روپے کمانے والے والدين ان کی تعلیم کے خرچے پورے نہیں کر سکتے ہیں۔

ایسے ہی ٹیوشن سنٹروں نے سرکاری سکولوں کا بھرم بھی رکھا ہوا ہے۔ کیونکہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی کمی کوتاہیوں کو ان ٹیوشن........

© Daily Urdu (Blogs)