Intizar Ki Aziyat Aur Hukumati Khamoshi
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ حکومت نے کسی منصوبے کا اعلان کیا ہو اور پھر اس کی فائلیں دفاتر کی الماریوں میں دب کر رہ گئی ہوں۔ مگر جب معاملہ نوجوانوں کے مستقبل کا ہو تو تاخیر صرف انتظامی کمزوری نہیں رہتی بلکہ یہ ایک اجتماعی ناانصافی بن جاتی ہے۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے سکول ٹیچر انٹرنز (STI) پروگرام بھی کچھ اسی انجام سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔
جب اس پروگرام کا اعلان کیا گیا تو ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کے دل میں ایک نئی امید نے جنم لیا۔ یہ وہ نوجوان تھے جو سالوں کی محنت کے بعد ڈگریاں لے چکے تھے۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق انہوں نے آن لائن اپلائی کیا، انٹرویوز دیے اور میرٹ پر منتخب ہوئے۔ سرکاری بیانات اور غیر رسمی معلومات کے مطابق جوائننگ تقریباً سولہ دسمبر دو ہزار پچیس تک متوقع تھی۔ انٹرویوز بھی سولہ دسمبر سے پہلے مکمل ہو چکے تھے۔ یعنی اب صرف آخری مرحلہ باقی تھا جوائننگ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کا مگر اچانک شکایات کو حل کرنے کے نام پر آرڈرز روک دیے گئے اور آج اکتیس جنوری ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ منتخب امیدوار آج بھی فون سکرینز پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
وٹس ایپ گروپس میں افواہیں گردش کر رہی ہیں اور دفاتر کے چکر لگائے جا رہے ہیں۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ شکایات حل کی جارہی ہیں۔ کہیں بتایا جاتا ہے کہ منظوری آخری مرحلے میں ہے اور کہیں خاموشی کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ........
