menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Imran Khan: Besakhiyon Se Tanhai Tak (1)

27 0
26.10.2026

عمران خان: بیساکھیوں سے تنہائی تک (1)

تاریخ کا ایک اصول ہے، انسان جب کسی دوسرے کے سہارے بلندی تک پہنچتا ہے تو اکثر اسے اپنی صلاحیت کا کمال سمجھ بیٹھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جس وقت سیڑھی نے اسے زمین سے اٹھا کر بلندی تک پہنچایا تھا، اس کے ہٹتے ہی اسے اپنی اصل جگہ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے۔ سیاست صرف جلسوں میں ہجوم اکٹھا کرنے، بلند آواز میں نعرے لگانے یا مخالفین کو للکارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دور اندیشی، سیاسی تدبر، بروقت فیصلوں اور بدلتے حالات کو سمجھنے کا فن ہے۔ ایک سیاست دان کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے پاس اقتدار کی طاقت، طاقتور حلقوں کی پشت پناہی اور حالات کو اپنے حق میں موڑنے کے ذرائع موجود نہ ہوں۔ ایسے وقت میں اس کی اپنی سیاسی بصیرت ہی اسے راستہ دکھاتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں عمران خان کی کہانی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے سیاسی سفر پر نظر ڈالیں تو ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ ان کے عروج میں ان کی اپنی سیاسی حکمت عملی کا کتنا حصہ تھا اور طاقتور حلقوں کی سرپرستی نے ان کے لیے کتنے راستے ہموار کیے؟ میرے نزدیک عمران خان کی سیاست کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ جب انہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل رہی تو وہ آگے بڑھتے گئے، لیکن جب معاملات خود سنبھالنے اور سیاسی فیصلوں کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کا وقت آیا تو ان کے کئی فیصلوں نے انہیں اور ان کی جماعت کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھے بغیر عمران خان کے سیاسی سفر کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ سکتی۔

تحریک انصاف کے آغاز کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ جماعت ابتدا ہی سے کسی بڑی عوامی تحریک کی صورت میں سامنے نہیں آئی تھی۔ 1990ء کی دہائی میں عمران خان نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا تو انہیں ایسے حلقوں کی توجہ اور ساتھ حاصل رہا جو روایتی سیاسی جماعتوں کے........

© Daily Urdu (Blogs)