Numberon Ki Daur Gilgit Baltistan Ke Talba Ki Zehni Sehat
نمبروں کی دوڑ اور گلگت بلتستان کے طلبہ کی ذہنی صحت
گلگت بلتستان میں طلبہ و طالبات میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک نہایت سنجیدہ اور تشویشناک سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ خصوصاً میٹرک، ایف اے اور ایف ایس سی کے نتائج کے دنوں میں امتحانی نتائج، نمبروں اور مستقبل کے حوالے سے طلبہ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ آئے روز اس مسئلے پر بحث ہوتی ہے، مختلف سطحوں پر تحقیقات بھی کی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی جامع اور مستقل حل تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف کسی افسوس ناک واقعے کے بعد اس پر چند دن بحث کرنے کے بجائے اس کے بنیادی اسباب کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خودکشی کسی ایک فرد، ایک خاندان، ایک استاد یا ایک ادارے کی وجہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے کئی نفسیاتی، معاشرتی، خاندانی اور تعلیمی عوامل بیک وقت کارفرما ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کی ذمہ داری بھی صرف طالب علم پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے، معاشرہ اور خود طلبہ سب کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور جب ان میں سے کوئی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو ایک حساس ذہن شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ نمبروں کو بنا دیا گیا ہے۔ جس طالب علم کے امتحان میں زیادہ نمبر آ جائیں اسے ذہین، قابل اور کامیاب سمجھا جاتا ہے جبکہ کم نمبر لینے والے طالب علم کو ناکام، کم صلاحیت یا معاشرے کے لیے کم مفید تصور کیا جاتا ہے۔ یہی رویہ بچوں کے ذہنوں میں بھی راسخ ہو جاتا ہے اور انہیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر ان کے نمبر اچھے نہیں آئے تو شاید وہ زندگی میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ایک امتحان کا نتیجہ کسی انسان کی پوری زندگی، صلاحیت اور کردار کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔
ایک طالب علم صرف تعلیم حاصل نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اپنی شخصیت، کردار اور مستقبل کی تعمیر کے مرحلے سے بھی گزر رہا ہوتا ہے۔ اسے کتابی علم کے ساتھ ساتھ زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے، مشکلات برداشت کرنے اور ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کی تربیت بھی درکار ہوتی ہے۔ طالب علم معاشرے کا مستقبل ہوتا ہے اس لیے اسے صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک اچھا انسان، ذمہ دار شہری اور معاشرے کے لیے مفید فرد بننے کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ طالب علم پر یہ بوجھ ڈال دیا جائے کہ اسے ہر حال میں ایک مثالی انسان بننا ہے اور اسے کبھی کمزوری یا ناکامی کا سامنا نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اسے یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ مشکل وقت میں مدد طلب کرنا، اپنے جذبات کا اظہار کرنا اور کسی قابل اعتماد شخص سے بات کرنا بھی زندگی کی ایک اہم صلاحیت ہے۔........
