Waldain Ke Saamne Aulad Ki Tareef Karna
والدین کے سامنے اولاد کی تعریف کرنا
ان دو میں سے ایک واقعے نے تو مجھ پر، میری یادوں اور میرے رویے پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
میں آپ سب سے معذرت خواہ بھی ہوں اور مجھے کبھی کبھار خود بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جب پاکستان اور دنیا کو اتنے اہم مسائل کا سامنا ہے، لوگ ادب پر لکھ رہے ہیں، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کھڑے ہیں تو میں کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں اور رویوں کو موضوع بناتا ہوں۔
لیکن پھر یہ خیال بھی آتا ہے، جو چھوٹی سی بات میرے اندر تبدیلی کا باعث بنی ہے، یا جس سے مجھے خوشی پہنچی ہے، شاید اس سے کسی دوسرے شخص کو بھی خوشی پہنچے یا کسی دوسرے شخص کو بھی پسند آ جائے؟ تو ان دو واقعات کا بھی میری خوشی اور ایک رویے میں تبدیلی سے بہت گہرا تعلق ہے۔
یہ کوئی پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ ابو جی کی کمر میں درد کا مسئلہ کافی شدید ہو چکا تھا۔ ابو جی نے کہا کہ لاہور میں کسی ڈاکٹر سے چیک آپ کروانا چاہیے۔ اب لاہور میں ہم نہ کسی ڈاکٹر کو جانتے تھے اور نہ ہی کوئی قریبی رشتہ دار ہے۔
میرے ذہن میں جو سب سے پہلا خیال آیا وہ تنویر شہزاد صاحب کا تھا۔ بہت ہی اچھے صحافی دوست ہیں، سدا مسکراتے رہتے ہیں اور شاندار اخلاق کے مالک ہیں۔ شدید بخار میں بھی آپ ان کے چہرے پر صرف مسکراہٹ ہی دیکھیں گے۔
میں نے ان سے گزارش کی کہ والد صاحب کو کمر کی درد کا شدید مسئلہ درپیش ہے، وہ ساری ساری رات چار پائی پر بیٹھے بیٹھے، صحن میں ٹہل کر اور ہائے ہائے کرتے گزار دیتے ہیں، آپ براہ مہربانی ان کا کسی اچھے سے ڈاکٹر سے چیک آپ کروا دیں، میں آپ کا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔
جس دن ابو جی لاہور سے واپس آئے تو میں نے جرمنی سے فون کیا تاکہ طبیعت کا دریافت کر سکوں۔ ابو جی اس دن شدید تکلیف کے باوجود بھی بہت خوش تھے۔ میں ان کی طبیعت کا پوچھا لیکن وہ کہنے لگے کہ تمہارے دوست نے تمہاری بہت زیادہ تعریف کی ہے۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تمہیں جرمنی میں اتنا........
