Jab Janaze Bhi Tareekh Likhne Lagen
جب جنازے بھی تاریخ لکھنے لگیں
جنگیں صرف بارود سے نہیں جیتی جاتیں اور نہ ہی قومیں صرف توپ و تفنگ کے سہارے زندہ رہتی ہیں۔ بعض اوقات ایک جنازہ بھی وہ کام کر جاتا ہے جو ایک لشکر نہیں کر پاتا۔ ایک تابوت بھی وہ پیغام پہنچا دیتا ہے جو ہزار سفارتی بیانات نہیں پہنچا سکتے۔ ایک شہید بھی وہ تاریخ لکھ دیتا ہے جسے فاتحین کی فوجیں صدیوں تک مٹا نہیں سکتیں۔
اگر آج ایران کی حکمتِ عملی کو صرف عسکری زاویے سے دیکھا جائے تو تصویر ادھوری رہے گی۔ اصل میدان صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ انسانی شعور میں آباد ہے۔ یہی وہ محاذ ہے جس پر برسوں سے کام کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مزاحمت صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک اجتماعی احساس اور ایک قومی حافظہ بن چکی ہے۔
قوموں کی نفسیات یکایک تشکیل نہیں پاتیں۔ انہیں نسلوں تک تراشا جاتا ہے۔ ایک بچہ جب اپنی پہلی کتاب میں قربانی کی داستان پڑھتا ہے، جب اس کے شہر کی دیواروں پر شہداء کی تصویریں آویزاں ہوتی ہیں، جب ہر سال........
