menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yahya Khan Ko Kis Ne Istemal Kya? (1)

48 0
26.08.2026

یحییٰ خان کو کس نے استعمال کیا؟ (1)

چند دنوں پہلے ایک مضمون میں ہم نے ایک ایسا سوال اٹھایا تھا جو پاکستان کی سرکاری اور غیر سرکاری تاریخ میں عموماً پوچھا ہی نہیں جاتا۔ کیا یحییٰ خان واقعی 1971ء کے سانحے کے واحد مجرم تھے؟

اس سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یحییٰ خان بے قصور تھے۔ وہ اس وقت پاکستان کے صدر تھے، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے اور فوج کے سربراہ بھی۔ ان کے دور میں ملک کا سب سے بڑا سیاسی بحران پیدا ہوا، فوجی کارروائی ہوئی اور بالآخر پاکستان دو حصوں میں بٹ گیا۔ اس ذمہ داری سے وہ کسی طرح بری نہیں ہوسکتے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ کا حساب اتنا سادہ ہے کہ باقی سب کرداروں کے نام کاٹ دیے جائیں اور پوری داستان کے آخر میں صرف ایک نام رہ جائے؟

اگر ایسا ہے تو پھر 1970ء کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سیاست دان کہاں گئے؟ وہ سیاسی جماعتیں کہاں گئیں جنہوں نے اس بحران کو اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھایا؟ وہ لوگ کہاں گئے جو یحییٰ کے اردگرد تھے؟ اور سب سے بڑھ کر وہ شخص کہاں گیا جو 1971ء کے بعد پاکستان کا سب سے طاقتور سیاسی رہنما بن کر ابھرا؟

یہاں سے ایک اور، شاید زیادہ خطرناک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یحییٰ خان صرف ناکام ہوئے، یا ان کی ناکامی سے فائدہ اٹھانے والے لوگ پہلے ہی ان کے گرد موجود تھے؟ اور اگر ایسا تھا تو ان میں بھٹو صاحب کا مقام کیا تھا؟ یہ مضمون اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

1970ء کے انتخابات کے بعد پاکستان کا مستقبل بنیادی طور پر تین آدمیوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن کے پاس عوامی اکثریت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس مغربی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت تھی اور یحییٰ خان کے پاس ریاست، فوج اور اقتدار تھا۔

اکثر لوگ، سیاسی اور غیر سیاسی عوام بھی 1971ء کے سانحے کے بنیادی کرداروں کا ذکر کرتے ہوئے انہی تین ناموں کی طرف اشارہ کر تے ہیں - مگر تاریخ کے ساتھ ہمارا سلوک عجیب رہا۔

شیخ مجیب بنگلہ دیش کے بانی بن گئے۔ بھٹو صاحب پاکستان کے مقبول ترین سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوئے اور یحییٰ خان؟

وہ پاکستان کے اجتماعی ضمیر کا واحد مجرم بن گئے۔ یہ تقسیم اتنی آسان نہیں ہونی چاہیے تھی۔ کیونکہ تینوں کا کردار تھا۔ فرق صرف ذمہ داری کی نوعیت کا تھا۔

انتخابی نتیجہ اور بھٹو کا مسئلہ

1970ء کے انتخابات نے ایک بالکل واضح سیاسی حقیقت پیدا کردی تھی۔ عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلی تھی۔ جمہوری اصول کے مطابق اس کا مطلب یہ تھا کہ شیخ مجیب الرحمن کو حکومت بنانے کا حق حاصل تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت تھی، لیکن پورے پاکستان کی قومی اسمبلی میں اکثریت اس کے پاس نہیں تھی۔ یہ وہ نکتہ ہے جس سے بھٹو صاحب کے ساتھ انصاف کرنے والا بھی فرار اختیار نہیں کرسکتا۔

وہ جیتے تھے، مگر پورا پاکستان نہیں جیتے تھے۔

وہ مغربی پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما تھے، مگر پاکستان کے پارلیمانی اکثریتی لیڈر نہیں تھے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں ایک جمہوری سیاست دان کے سامنے کیا راستہ تھا؟ وہ قومی اسمبلی میں جاتے۔ اپنی پارٹی کے ارکان کے ساتھ بیٹھتے۔ مجیب الرحمن کے چھ نکات اور آئینی پروگرام پر بحث کرتے۔ اتحاد بناتے۔ ترمیم پیش کرتے۔ ووٹ دیتے اور اگر شکست ہوتی تو اپوزیشن میں بیٹھتے۔ یہ پارلیمانی جمہوریت کا راستہ تھا۔

لیکن بھٹو صاحب نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ ایک ایسے سیاسی بندوبست کے خواہاں تھے جس میں اقتدار صرف اکثریتی جماعت کے حوالے نہ ہو بلکہ مغربی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو بھی اس میں فیصلہ کن حصہ ملے۔ ہیہ ان کی سیاسی خواہش تھی۔ ممکن ہے وہ اسے پاکستان کے مفاد میں سمجھتے ہوں۔ ممکن ہے وہ واقعی........

© Daily Urdu (Blogs)