menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Dil Pathar Ho Jayen

7 2
04.02.2026

وہ بھی ایک وقت تھا جب کسی انسان کے چہرے پر درد کے آثار ہمیں بے چین کر دیتے تھے۔ کسی بزرگ کی آہ، کوئی روتا ہوا بچہ یا کسی دروازے پر خاموش کھڑی بیوہ ہمارے احساسات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے تھے۔ مگر آج ہم ایک ایسے عجیب دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمیں لوگوں کی چیخیں بھی سنائی نہیں دیتی ہے اور اگر ہمارے سامنے کسی کے آنسو بھی بہہ رہے ہوں تو بھی ہماری نظریں اسکرین سے نہیں ہٹتی۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے دیکھنا تو سیکھ لیا ہے مگر محسوس کرنا بھول گئے ہیں۔

موجودہ دور بظاہر رابطوں کا دور ہے۔ ہم سب موبائل فون، سوشل میڈیا، چیٹ ایپس پر ہر وقت ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں مگر دلوں کے فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر سمت باتوں کی بہتات ہے مگر خاموشی گہری ہوتی جارہی ہے۔ ردِعمل فوری ہیں مگر غور و فکر نایاب۔ ایسے ماحول میں ہماری زندگیوں سے ایک انمول نعمت آہستہ آہستہ رخصت ہوتی جارہی ہے اور وہ ہے احساس کی نعمت۔

اب یہ احساس کیا ہے؟ احساس محض ہمدردی کا نام نہیں بلکہ یہ وہ صلاحیت ہے جو ہمیں دوسروں کے درد میں اپنا عکس دکھاتی ہے۔ جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سامنے والا کوئی خبر، کوئی نقطہ، کوئی عدد، کوئی شے یا کوئی اسکرین شاٹ نہیں، بلکہ گوشت پوست کا ایک انسان ہے جس کے پاس احساس اور شعور ہے اور جو ہماری ہی طرح کمزور اور ہماری ہی طرح محتاجِ توجہ ہے۔ جب یہ احساس ہمارے اندر مر جاتا ہے تو انسانیت کا زوال شروع ہوجاتا ہے اور ظلم شور مچائے بغیر ہمارے معاشرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ ناانصافی قانون کے پردے میں چھپ........

© Daily Urdu (Blogs)