Na Qabil e Feham Mutalbat Aur Pur Tashadud Ehtejaj
ناقابل فہم مطالبات اور پرتشدد احتجاج
کشمیر کے تشخص کو کسی جھتے، گروہ یا تنظیم کے ایما دبایا اور نہ اہل پاکستان کی کشمیر سے جذباتی، نظریاتی، روحانی و قلبی وابستگی اور نفسیاتی عقیدت کو انتہا پسندانہ رویوں سے ختم جا سکتا ہے۔
ایکشن کمیٹی کے علم میں ہے کہ آزاد خطہ کی تزویراتی پوزیشن اور حساس نوعیت ریاست پاکستان اور خود اہل کشمیر کے لیے کتنی اہم! مگر پھر بھی مطالبات پر بات چیت و انتخابی عمل سے انکار، سپریم کورٹ سے رائے سے بھی اتفاق نہیں اور نشتستوں کے معاملہ پر ریفرنڈم سے بھی فرار! یہ سب ناقابل فہم اور ایکشن کمیٹی کی حیثیت کو مشکوک بنانے کو کافی۔
حکومت آزاد کشمیر کے صبر کا پیمانہ لبریز کیوں ہوا؟ ضبط کے بندھن کیوں ٹوٹے؟ کالعدم قرار دینے کی نوبت کیوں آئی۔ یقیناََ یہ ایسے سوال کہ جس کے پیچھے کئی محرکات! کہ گزشتہ دو بار کے پرتشدد مظاہروں اور حکومت کے سرنڈر نے انہیں جری کر دیا۔ یہ سوال بھی ذہنوں میں کھٹکتا ہے کہ ستمبر 2023 میں سادہ اور عوامی مطالبات کے ساتھ وجود میں آنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مقبولیت کس نے دلوائی، ہر آنے والے دن کے ساتھ مذاکرات کی فہرست طویل کیونکر اور ناقابل عمل تجاویز سامنے کیوں آتی گئیں؟ اور یہ اب کس جماعت و کن نظریات کے ہاتھوں یرغمال؟ ان کا ایکس اکاؤنٹنٹ کہاں سے آپریٹ ہوتا ہے اور کون سا ملک ان کی پرتشدد سرگرمیوں سے براہ راست فائدہ اٹھانے کے درپے؟
افسوس کہ یہ سوالات و خدشات اس خطہ کے باسیوں سے متعلق کہ جسے پاکستانی اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر تو ایسا پرامن خطہ کہ جہاں سے رہاست پاکستان کو ہمیشہ ٹھنڈی ہوائیں ہی ملیں اور اس کے خوددار راہنماوں و........
