Molana Sahab, Ye Misal Durust Nahi
مولانا صاحب، یہ مثال درست نہیں
مولانا فضل الرحمن صاحب کا میں دلی احترام کرتا ہوں۔ وہ اس ملک کے انتہائی تجربہ کار، زیرک، معاملہ فہم اور جرات مند قومی راہنما ہیں اور اس لحاظ سے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ چند روز پہلے انھوں نے ایک سیاسی جلسے میں غصے کی حالت میں ایک بات کہہ دی تھی جس میں شہدا کا بھی ذکر تھا، جس پر ان کے خلاف کردار کُشی اور ذاتی حملوں کا طوفان برپا کر دیا گیا، میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ ملک کا دفاع کرنے والے پاک افواج اور پولیس کے شہداء کے مقدس خون کی ایک بوند کا بھی احسان نہیں چکایا جا سکتا۔ شہداء کے خون کو تنخواہ اور مراعات میں کسی صورت نہیں تولا جا سکتا، شہداء ہمارے عظیم محسن ہیں ہم ان کے احسان کا بدلہ چکا ہی نہیں سکتے۔ شہداء کے ضمن میں تنخواہ اور پیٹی کی بات درست نہیں تھی۔ کچھ اور عوامل کی وجہ سے مولانا غصے میں تھے اور اسی کیفیت میں ان سے وہ بات نکل گئی۔
مگر اس کے بعد جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا وہ نامناسب تھا، اسی مائینڈ سیٹ اور اسی قسم کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں حالات خراب ہوئے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ریاست سے لاتعلق ہوئی ہے۔ ڈنڈے اور جبر کی بجائے پیار، احترام، مفاہمت اور رواداری سے معاملات درست کرنے کی کوشش ہونی چاہیئے۔ ایسا کیا جاتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔
اس سے اگلے روز مولانا نے وکلاء کنونشن میں اپنے اسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "آپ ہمیں لڑانا چاہتے ہیں آپ قبائل کو کہہ رہے ہیں کہ وہ لشکر تیار کریں اس طرح آپ ہماری دشمنیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں" اس کی وضاحت میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یعنی فوج نے مشرقی پاکستان میں عوام سے مدد مانگی تو وہاں البدر اور الشمس کے نام سے جماعت اسلامی کی رضاکار تنظیمیں تیار ہوئیں، جنہوں نے فوج کی مدد کی، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت اسلامی اور عوامی لیگ کی دشمنی پیدا ہوگئی اور البدر اور........
