Chiragh Sab Ke Bujhen Ge Hawa Kisi Ki Nahi
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
ہفتے کی رات کو جب ایرانی میڈیا نے وقت کے فرعونوں خلاف اٹھنے والی سب سے مضبوط تلوار ٹوٹنے کی تصدیق کردی تو دل اس قدر رنجیدہ اور مغموم ہوا کہ ٹی وی بند کردیا مگر شدید دکھ اور غم کی حالت میں نیند کوسوں دور رہی اور رات جاگتے ہوئے کٹی۔
شیرِ میسور ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد سامراجی قوتوں کے ہاتھوں یہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ ہر خطے اور ہر زبان کا مورخ گواہی دے گا کہ جب پوری دنیا کے حکمران دورِ حاضر کے سامراج کے سامنے خاموش تھے یا قصیدہ گوئی میں مصروف تھے، تو ہلاکت آفرین میزائلوں اور آگ برساتے ہوئے بموں کی بارش میں اگر کوئی سینہ تان کر مقتل میں کھڑا رہا تو وہ صرف اور صرف سیّد علی خامینائی تھا جو آج کی سپر پاور سے نہ ڈرا اور نہ جھکا۔ وہ اپنے آپ کو اُس حکیم الامّت ڈاکٹر محمد اقبالؒ کا مرید کہتا تھا جو امّتِ مسلمہ کو
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری کی تلقین کرتا رہا۔
سیّد علی خامینائی اپنی تقریروں میں اپنے مرشد سے کربلا کی رسم نبھانے کا وعدہ کیا کرتے تھے اور پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ چھیاسی سالہ بوڑھے شیر نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانیں بچانے کے بجائے رسمِ شبیری ادا کرکے دکھادی۔ وہ ایک غیر معمولی راہنما تھا، اس کی نگاہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز تھی، اس کی ہر تقریر اللہ اور رسول اللہ کے بابرکت ناموں سے شروع ہوتی اور انھیں پر ختم ہوتی تھی، اس نے نہ کبھی اختلافی امور کو اچھالا اور نہ ہی مسلک کو دین پر حاوی ہونے دیا۔ وہ حلقۂ یاراں میں سراپا محبّت وشفقت اور رزمِ حق وباطل میں فولاد کی طرح مضبوط تھا۔ دورِ حاضر میں اگر کسی کو دنیائے اسلام کا جینوئن لیڈر اور قائد کہا جاسکتا ہے تو وہ بلاشبہ سیّد علی خامینائی تھے۔ شیرِ ایران جس شان سے مقتل میں گیا ہے وہ تاریخ کا حصہ بن کر صدیوں تک ایرانی نوجوانوں کا لہو گرماتی رہے گی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اُس روز سحری کے بعد پڑھنے کے لیے کتاب اللہ کھولی........
