menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Hairat Angez Dastan e Hayat

38 0
22.04.2026

ایک حیرت انگیز داستانِ حیات

چند ماہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظر سے گزری، کسی صاحب نے ملائشیا کے عظیم راہنما ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کیا تھا، رائٹر کا نام اجنبی تھا مگر تحریر بہت دلچسپ تھی، تحریر کے نیچے میں نے کمنٹس میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تو محرّر (تھانے والا نہیں، تحریر لکھنے والے رائٹر) نے بڑی مسرّت کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ ماشاء اللہ سی ایس ایس کے امتحان کے ذریعے سول سروس میں داخل ہوئے اور انکم ٹیکس سروس میں کمشنر کے عہدے تک پہنچے اور اب کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں۔ یہ میرا "میاں چنوں سے ملائشیا تک" کے مصنف محترم محمد بوٹا انجم صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ وہ آج کل ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقیم ہیں، کچھ ہفتے قبل وہ اسلام آباد آئے تو میں نے انھیں کھانے پر مدعو کیا اور وہیں ہم نے ایک دوسرے کو اپنی کتابوں کے تحفے دیے۔

ان کی سوانح حیات "میاں چنوں سے ملائشیا تک" ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی داستان کہ زمانے کی گردش نے جسے ان گنت مسائل اور مصائب سے دوچار کردیا، اس کے سامنے رکاوٹوں کے ہمالیہ کھڑے ہوگئے مگر اس نے مایوس اور ناامید ہونے سے انکار کردیا، اس نے دو چیزوں کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ امید اور حوصلہ۔ اس نے ایک ہاتھ میں امید کا چراغ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ میں حوصلے کا تیشہ لے کر رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹنا شروع کردیے۔ ایک پہاڑ کٹتا تو آگ کا دریا سامنے آجاتا۔ وہ عبور ہوتا تو بقول منیر نیازی؎

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو جب ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اسی لیے میں نے اپنی خودنوشت جہدِ مسلسل، انھیں بھیجتے وقت اس پر لکھا تھا "محمد بوٹا انجم صاحب کے لیے جو خود جہدِ مسلسل کی مجسّم تصویر ہیں"۔

ان کے والد صاحب تین بھائی تھے جن کی دس ایکٹر زمین تھی، ظاہر ہے کہ اس سے پورے کنبے کا گزارہ مشکل تھا اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے سوا تین ایکڑ کے مالک والد کی خواہش تھی کہ بیٹا صرف آٹھویں جماعت تک پڑھے اور اس کے بعد وہ کاشتکاری میں........

© Daily Urdu